لاہور ( اے بی این نیوز ) بسنت کے موقع پر مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کے لیے 6، 7 اور 8 فروری کو دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی یا نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں ہو گی۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی مذہبی و سیاسی شخصیت کی تصویر لگانے پر مکمل پابندی ہو گی۔ اسی طرح کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگیں بھی اڑانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انتظامیہ کے مطابق بسنت پر صرف بغیر تصویر، یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈا اور پتنگ استعمال کی جا سکے گی، جبکہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وزیراطلاعات پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے 25 سال بعد بسنت بحال کر کے عوام کو روایتی تہوار واپس دیا ہے، تاہم حفاظت اور قانون پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
دوسری جانب آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے اندرونِ شہر کا دورہ کر کے بسنت کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران اور دیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔ ڈی آئی جی لاہور نے آئی جی پنجاب کو سیکیورٹی پلان پر بریفنگ دی، جبکہ آئی جی پنجاب نے حکومتی ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کی۔
پولیس حکام کے مطابق محفوظ بسنت کے لیے لاہور میں 10 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ دیگر شہروں سے آنے والے شہریوں کے پیش نظر اضافی نفری بھی لگائی گئی ہے۔ کائٹ فلائنگ ایکٹ کی خلاف ورزی پر اب تک 1600 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
لاہور کو سیکیورٹی کے حوالے سے تین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دھاتی اور کیمیکل ڈور کے استعمال، ہوائی فائرنگ یا حکومتی پابندی کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی کی جائے گی۔ شہر میں ڈرونز اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی بھی شروع کر دی گئی ہے۔علاوہ ازیں بسنت کے موقع پر شہریوں کے لیے خوشخبری دیتے ہوئے لاہور میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں :پاکستان کی شزافاطمہ خواجہ پاکستان ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کی صدر منتخب















