اہم خبریں

چائے کی پتی کی قیمت 16 سو روپے سے تجاوز، قلت کا خدشہ

کراچی (نیوزڈیسک) چائے کی پتی کی قیمت گزشتہ پندرہ دنوں میں 16 سو روپے فی کلو سے تجاوز کرگئی، دسمبر کے آخر سے جنوری کے اوائل تک پہنچنے والے 250 کے قریب کنٹینرز اب تک بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 21 جنوری کے بعد بینکوں نے مالیاتی انسٹرومنٹ فائل کئے تھے اس طرح صرف ان درآمد کنندگان کو ڈیوٹی ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی جنہوں نے اپنے سپلائرز سے 180 دن کی ادائیگی مؤخر کر دی تھی۔مگر جو لوگ اپنے سپلائرز سے یہ سہولت حاصل کرنے میں ناکام رہے ان کے کنٹینرز اب بھی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔رمضان سے قبل ملک بھر میں چائے کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

معروف برانڈ نے 170 گرام دانےدار اور الائچی پیک کی قیمت 290 روپے سے بڑھا کر 320 اور 350 روپے کر دی ، اسی طرح 900 اور 420 گرام والے پیک کی قیمت اب ایک ہزار 350 اور 550 روپے کے مقابلے میں ایک ہزار 480 اور 720 روپے کردی جبکہ دیگر کمپنیاں بھی اس کی پیروی کیلئے تیار ہیں۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی چائے سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کے کنوینر ذیشان مقصود نے کہا کہ اس وقت درآمدات بحران کا شکار ہیں جس کی وجہ سے مارچ میں بڑی قلت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بینکوں کا کہنا ہے کہ انہیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے 180 دن کے مؤخر کانٹریکٹ یا 180 دن کے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) پر دستاویزات جاری کرنے کی ہدایات ہیں۔ا

متعلقہ خبریں