لاہور( اے بی این نیوز)لاہور میں داتا دربار کے قریب سیوریج لائن میں ماں اور بیٹی کے گر کرجاں بحق ہونے کے دلخراش واقعے نے سب کو سوگ میں مبتلا کر دیا لیکن اہم بات یہ ہے کہ پنجاب کی انتظامیہ نے حکومت پنجاب کو ماموں بنا دیا اور حتیٰ کہ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کو بھی غلط رپورٹ پیش کی گئی جس پر انہوں نے متعلقہ پنجاب انتظامیہ سے بریفنگ لینے کے بعد میڈیا کو بتایا کہ اس خبر میں کوئی حقیقت نہیں حتیٰ کہ انتظامیہ نے بھی اس حوالے سے باقاعدہ تردیدی بھی جاری کیا لیکن دوسری جانب ماں بیٹی کی تلاش بھی جاری رہی اور کل والدہ کی نعش اور بیٹی کی نعش کو آج نکالا گیا اہم توجہ طلب یہ بات ہے کہ پنجاب کی متعلقہ انتظامیہ بھی خواب خرگوش کے مزے لیتی رہی سی سی ٹی وی فو ٹیج 7:07 منٹ کی ہے اس کے باوجود انتظامیہ تردید کرتی رہی اور حکومت پنجاب کو بھی گمراہ کیا ان تمام حالات اور واقعات کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے باقاعدہ پریس کانفرنس کی
اور انہوں نے اجلاس میں واضح کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر نے سائیڈ کا دورہ تک نہیں کیا پراجیکٹ پے ڈائریکٹر منیجر اور کنسلٹنٹ سمیت تمام متعلقہ حکام ذمہ دار ہیں ڈی جی ایل ڈی اے اور ایم ڈی واسا کو بھی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مریم نواز نے فوری گرفتار اور ملازمت سے برخاست کرنے کا حکم دے دیا مریم نواز نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا لاہور جیسے شہر میں یہ غفلت ناقابل قبول ہے ۔ بریفنگ کےدوران ان کو یہ بھی بتایا گیا کہ مین ہول انتہائی اونچا اور پانی کے بہائو میں تیزی تھی ریسکیو حکام زیادہ اندھیرا ہونے کی وجہ سے ماں کی نعش کل اور بچی کی نعش آج برآمد کی اس قرب ناک واقعے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے پراجیکٹ منیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج احمد نواز کو بھی گرفتار کر کے مقدمہ دفعہ 322 کے تحت درج کر لیا ہے ۔مریم نواز نے اس واقع کو انتہائی مجرمانہ اور لاپرواہی کا واقعہ قرار دیا ،اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ حادثے کے فوری بعد اہلخانہ کو مدد کے بجائے تھانے لے جایا گیا اور حادثے کو چھپانے کی کوشش کی گئی ۔
واضح رہے کہ مقدمہ متاثرہ خاتون کے والد کی مدعت میں درج کیا گیا ہے ،والد کا ایف آئی آر میں بیان ہے کہ بیٹے کو فون پر بتایا گیا کہ آپ کی بہن اور میری بیٹی مین ہول میں گر گئی ہیں۔پنجاب انتظامیہ نے ماں اور بیٹی کے مین ہول میں گرنے سے متعلق واقع بے بنیاد قرار دے دیا تھا نیز ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ مین ہول کی نشاندہی ہو چکی ہے اور اس میں مبینہ کسی انسان کے ڈوبنے کا امکان موجود نہیں ، ایم ڈی واسا نے بھی دعوے کو مسترد کیا کہ موجودہ شخص مین ہول میں ڈوب جائے ان کے مطابق مین ہول میں ایک فٹ پانی موجود تھا اتنے کم بہائو میں نہ کوئی ڈوب سکتا ہے نہ ہی بہہ سکتا ہے ، لیکن ماں بیٹی کی نعشیں برآمد ہونے کے بعد انتظامیہ کے خلاف مریم نواز نے سخت ایکشن لیتے ہوئے نہ صرف ان کی گرفتاری کے احکامات دیئے بلکہ ملازمت سے بھی فارغ کر دیا جبکہ عظمیٰ بخاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات کو انتظامیہ نے غلط بریف کیا انہیں جو بتایا گیا انہوں نے وہی کہاں انتظامیہ اس سارے سانحہ کی ذمہ دار ہے ۔
مزید پڑھیں :راولپنڈی اور اسلام آباد میں یکساں اوقات اذان و نماز کے نفاذ کے لیے اہم فیصلے















