اسلام آباد (اے بی این نیوز )اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے، جس کی صدارت چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے کی۔ اجلاس میں ماڈل جیل اسلام آباد، جرائم کی روک تھام، عدلیہ کی کارکردگی اور سیکیورٹی کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اعلامیے کے مطابق ماڈل جیل اسلام آباد کی تعمیر پر کام 85 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور اسے 30 جون 2026 تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یکم جولائی 2026 سے قیدیوں کی منتقلی کا آغاز ہوگا جبکہ جیل سٹاف کی تعیناتی اور تمام انتظامات بروقت مکمل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ وزارت داخلہ اور وزارت خزانہ کو ماڈل جیل کے امور حل کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
اجلاس میں نیشنل پریزن ریفارم ایکشن پلان پر بھی غور کیا گیا جسے جیل اصلاحات کے لیے اہم فریم ورک قرار دیا گیا۔ چیف جسٹس نے اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور زیاتی کے مقدمات میں فرانزک لیب رپورٹس کو لازمی قرار دینے پر زور دیا۔ تفتیشی افسران کی تربیت بہتر بنانے اور ضلعی عدلیہ کو مقدمات جلد نمٹانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔سیف سٹی اور سی سی ٹی وی نگرانی کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ 35 فیصد حساس علاقوں کی مانیٹرنگ جاری ہے، 19 ہزار سے زائد افراد اور 15 ہزار گاڑیوں کی چیکنگ کے دوران 15 اشتہاری مجرم گرفتار کیے گئے۔ وفاقی دارلحکومت میں اے آئی کیمروں کی تنصیب بھی جاری ہے
اور ریڈ زون طرز کی سیکیورٹی دیگر علاقوں میں نافذ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔اعلامیے میں عدالتوں اور ججز کی رہائش گاہوں کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے، جوڈیشل کمپلیکس میں ایمرجنسی ایگزٹ اور الارم سسٹم نصب کرنے اور پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ لے کر چالان بروقت جمع کرانے کی ہدایات بھی شامل ہیں۔ وزارتوں کو پراسیکیوشن کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں :لاہور میں ماں بیٹی کے مین ہول میں گرنے کا دلخراش واقعہ،مقدمہ درج،نئی بحث شروع،جا نئے کیا















