اہم خبریں

عمران خان کی صحت اور حالات بارے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، علامہ ناصر عباس

اسلام آباد (اے بی این نیوز    )اے بی این نیوز کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ عوام کا بانی پی ٹی آئی کے ساتھ عقیدت اور محبت کا گہرا رشتہ ہے، اسی لیے ان کی صحت اور حالات کے حوالے سے عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو تنہا رکھا گیا ہے اور ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے، جو سیاسی کشیدگی اور مشکلات کو جنم دے رہی ہے۔ حکمرانوں کے ان اقدامات سے عوام میں ناراضگی بڑھ رہی ہے، بانی پی ٹی آئی کو اپنی فیملی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، حالانکہ ہر قیدی کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ سے مل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی تحریک انصاف پارٹی کے لیے انتہائی اہم ہیں، پارٹی کابینہ کو مکمل کرنا چاہتی ہے لیکن ملاقاتوں پر پابندی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں عوام میں بدنامی اور غصے کا باعث بن رہی ہیں، اطلاعات ہیں کہ ملاقاتیں 8 فروری سے پہلے نہیں ہونے دی جائیں گی، حالانکہ فیملی سے ملاقات سیاسی نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کر پا رہا، جبکہ قانون کے مطابق سینیٹر یا ایم این اے کسی بھی جیل کا دورہ کر سکتا ہے، مگر پولیس اور انتظامیہ کسی کو قریب نہیں آنے دے رہی۔ ملک میں آئین اور قانون کی عملداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں، پارلیمنٹ میں بل تو پاس ہو جاتے ہیں مگر حقیقی بحث نہیں ہوتی، نظام کی بنیاد کمزور ہو چکی ہے اور معاملات الٹے چل رہے ہیں، جنہیں درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

وادی تیراہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنسز اور تردیدوں کے باوجود آپریشن کے الزامات سامنے آ رہے ہیں، سہیل آفریدی کے بیانات اور حکومتی مؤقف میں واضح اختلاف موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے گھر اجڑ چکے ہیں، ماضی میں مجاہدین کے نام پر لائے گئے افراد سے بعد میں خود لڑائیاں ہوئیں، اور آج اس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وادی تیراہ میں شدید بارش اور برفباری کے باعث انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، 17 ہزار خاندان متاثر اور ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، مگر اس کے باوجود ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں احتجاج اور سیاسی ردعمل سے صورتحال مزید حساس ہو رہی ہے، جبکہ مسائل کا واحد حل مؤثر کوآرڈینیشن اور مشاورت میں ہے۔

مزید پڑھیں :امریکی بحری جہاز ایران کی سمندری حدود میں داخل ہوئے تو ان کو نشانہ بنایا جائے گا،ایران

متعلقہ خبریں