اہم خبریں

پاکستانی بندرگاہیں ازبکستان کی غیر ملکی تجارت کے لیے اسٹریٹجک گیٹ وے بن گئیں

اسلام آباد(اے بی این نیوز    ) خشکی میں گھرے ہوئے ملک ہونے کے باعث ازبکستان کو سمندر تک رسائی کے لیے کم از کم دو ممالک سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر جیسی پاکستانی بندرگاہیں ازبکستان کے لیے جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا پیسیفک منڈیوں تک کم ترین فاصلے اور کم لاگت میں رسائی فراہم کر رہی ہیں۔ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کو ملانے والا یو اے پی ریلوے منصوبہ اور وسطی ایشیا کو پاکستان سے جوڑنے والا ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کوریڈور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔ 2025 کے اختتام تک یو اے پی کوریڈور کے ذریعے 4 لاکھ ٹن سے زائد کارگو کی نقل و حمل ریکارڈ کی گئی، جو دوطرفہ اور ٹرانزٹ تجارت میں مسلسل اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستانی بندرگاہوں کے استعمال سے ازبکستان کو ترسیل کے وقت میں 10 سے 15 دن کی بچت اور لاجسٹکس اخراجات میں 20 سے 30 فیصد تک کمی ممکن ہوئی ہے، جس سے ازبک برآمدکنندگان کو عالمی منڈی میں مسابقتی برتری حاصل ہو رہی ہے۔
اگرچہ سرحدی بندشوں اور علاقائی حالات کے باعث وقتی رکاوٹیں سامنے آتی رہی ہیں، پاکستان کا جدید بندرگاہی انفراسٹرکچر ازبکستان کی طویل المدتی تجارتی اور ٹرانسپورٹ حکمت عملی میں مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا۔ازبکستان کی جانب سے پاکستانی بندرگاہوں پر بڑھتا ہوا انحصار اس بات کی واضح علامت ہے کہ یہ بندرگاہیں اب محض ٹرانزٹ پوائنٹس نہیں رہیں بلکہ ازبکستان کی تیزی سے بڑھتی غیر ملکی تجارت کے لیے ایک اسٹریٹجک لاجسٹکس بیس کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔

مزید پڑھیں :لاہور،بھاٹی گیٹ ،ماں بیٹی کھلے گٹر میں گر گئیں،تلاش جاری

متعلقہ خبریں