اہم خبریں

عمران خان کی آنکھ کی وین میں خطرناک بلاکیج کے باعث بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ،پی ٹی آئی کا دعویٰ

اسلام آباد ، راولپنڈی (نیوز ایجنسیاں ، خبر نگار) پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی عمران خان کی آنکھ کی وین میں خطرناک بلاکیج کے باعث بینائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ۔پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ میں سی آر وی او کی تشخیص ہوئی ہے جس کے باعث آنکھ کی وین میں خطرناک بلاکیج پیدا ہو چکی ۔

پی ٹی آئی نے بتایا کہ ڈاکٹرز کے مطابق یہ سنگین طبی مسئلہ ہے ،اس کے نتیجے میں بینائی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ جیل انتظامیہ علاج جیل کے اندر کرانے پر بضد ہے ، جبکہ ڈاکٹرز نے واضح طور پر اسے ناممکن قرار دیا ہے کیونکہ سی آر وی او کے علاج کیلئے آپریشن تھیٹر اور خصوصی طبی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جو جیل کے اندر ممکن نہیں۔

پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کی فیملی اور رفقا سے فوری ملاقات کرائی جائے اور انہیں مناسب اور فوری طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ادھر بانی کی بہنوں اور پولیس میں مذاکرات کامیاب ہو گئے ۔ علیمہ خان اور بہنیں چھ گھنٹے سے زائد دھرنا ختم کرکے واپس روانہ ہو گئیں ۔ پولیس اور علیمہ خان کے درمیان تین گھنٹے تک اڈیالہ روڈ کے راستے ریلی کی صورت میں جانے کے اصرار پر ڈیڈ لاک رہا ۔

مذاکرات کی کامیابی پر بانی کی تینوں بہنیں اڈیالہ روڈ سے صدر کی جانب روانہ ہو گئیں۔ ایس ایچ او تھانہ صدر بیرونی بانی کی بہنوں کی گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر سوار ہو کر گئے اڈیالہ روڈ سے دیگر کارکن اور گاڑیاں بھی روانہ ہوگئیں۔ادھر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے باوجودچیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اکیلے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا اور کسی کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی ۔

بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے دن منگل کو چھ وکلا ،تینوں بہنوں اور بشریٰ بی بی کی فیملی کی ملاقات نہ ہو سکی ۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان ملاقات کی اجازت ملنے کے باوجود واپس روانہ ہوگئے ، گوہر نے موقف اختیار کیاکہ ملاقات میں ایک فیملی ممبر یا وکیل کو شامل کیا جائے ۔ بہنوں کے ہمراہ ماربل فیکٹری ناکہ پر میڈیا سے بات چیت میں عمران خان کی بہن علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ پاکستان بند کرنے کی شروعات کیلئے 8فروری کو تحریک تحفظ آئین نے کال دے رکھی ہے ہم سارا پاکستان بند کریں گے ،انہوں نے بسنت کا اعلان کر دیا ساری پتنگیں آئیں گی اور اوپر قیدی نمبر 804 لکھا ہو گا۔

مزید پڑھیں۔عمران خان کو ٹارچر کرنے کیلئے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے: علیمہ خان

متعلقہ خبریں