اہم خبریں

ایمان مزاری کی سزا، ہوسکتا جیل بھرو تحریک شروع کر دیں: اچکزئی

پشاور(اے بی این نیوز) اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ ایمان مزاری اور شوہر کی سزا کے بعد ہوسکتا ہے ہم بھی جیل بھرو تحریک شروع کر دیں۔

تحریک تحفظ آئین کی قیادت نے مزاری ہاؤس میں ایمان مزاری کی والدہ اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ ملاقات کے بعد محمود اچکزئی، مصطفی نواز کھوکھر اور بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کی اور ایمان مزاری کو دی جانے والی سزا کی مذمت کی۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ ہو سکتا ہے ہم جیل بھرو تحریک کا اعلان کردیں، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کتنے لوگوں کو جیل میں ڈالتے ہیں۔ مصطفی نواز نے کہا کہ آج پاکستان پر آمریت مسلط کر دی گئی ہے، اگر کسی کے ذہن میں یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت ہے تو وہ اس کو درست کر لے، جس طرح کے فیصلے آ رہے ہیں یہ ملک کو نارتھ کوریا یا مصر بنانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں کوئی حق کے لئے آواز نہ اٹھائے، اگر کوئی اٹھاتا ہے تو اس کو خاموش کر دیا جاتا، 8 فروری کو ہم اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائیں گے، لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے بھی اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم یہاں ڈاکٹر شیریں مزاری سے اظہار یکجہتی کے لئے آئے ہیں، پاکستان میں لاقانونیت عروج پر ہے اور ادارے کمزور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے ایمان اور ہادی کا ٹرائل ہوا ہم نے اُس پر تشویش کا اظہار کیا اور جس انداز سے سزا دی گئی وہ بھی ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ سے پیکا کے خلاف تھے اور رہیں گے ، جہاں لوگوں کو انصاف نہیں ملتا وہاں لوگ قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں، ہم امید کرتے ہیں چیف جسٹس آف پاکستان اس پر کوئی کارروائی کریں گے اور انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا۔

گوہر نے کہا کہ میں پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی علی کو دی جانے والی سزا ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔

دوسری طرف اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے 8 فروری کو یوم سیاہ منانے اور ہڑتال پر مشاورت کرلی۔اسلام آباد میں محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں سینیٹر راجا ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، محمد زبیر، عمار علی جان اور مصطفیٰ نواز کھوکھر نے شرکت کی۔

اپوزیشن اتحاد کے اجلاس کے اعلامیے کے مطابق 8 فروری پاکستانی قوم کی اجتماعی تضحیک کا دِن ہے ، 8 فروری کی ہڑتال سے متعلق جماعتوں اور اُن کی تنظیموں کے لیے ہدایات مرتب کی گئیں۔ اجلاس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دی گئی سزا کو آزادی اظہار آزادی اور فیئر ٹرائل کے حقوق پر کاری ضرب قرار دیا۔ اپوزیشن اتحاد کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فی الفور نئے انتخابات کرانے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں۔پنجاب حکومت: تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کا نیا منصوبہ تیار

متعلقہ خبریں