اسلام آباد(اے بی این نیوز)وفاقی وزیرصحت اور ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اگر ایم کیو ایم کی وزارتیں لے کر کراچی کو بچایا جا سکتا ہے تو ہم فوری طور پر استعفا دینے پر تیار ہیں۔
نجی چینل کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی کے واقعات کے طعنے دیےجارہے انہوں نے خود کیا کیا ہے؟ حادثات کے بعد سندھ حکومت اگلے حادثے کا انتظارکرتی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی میں رشوت اور کرپشن کی وجہ سے کام نہیں ہورہے۔ ہمیں پیپلزپارٹی سے کوئی امید نہیں رہی۔ پنجاب کا ہر وزیراعلیٰ لاہور کو اون کرتا ہے مگر سندھ کا ہر وزیراعلیٰ کراچی کو ڈس اون کرتا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا ہےکہ یہ ہمارا وجود تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں، ایم کیوایم کے پاس اس وقت وہ طاقت نہیں کہ پورے نظام سے ٹکرا جائے۔
دوسری جانب وزیربلدیات سندھ ناصرحسین شاہ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے قول وفعل میں تضاد ہے۔ ان پر بات کرنا فضول ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2013 سے 2018 تک وفاقی حکومت نے دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ کے لیے صرف 2 سے 3 فیصد ترقیاتی فنڈ رکھے تھے۔
وزیربلدیات سندھ ناصرحسین نے کہا کہ مصطفیٰ کمال ماضی میں خود کہہ چکے ہیں کہ بطور ناظم کراچی اُنہیں سب سے زیادہ فنڈ صدر آصف زرداری نے دیے تھے۔ اب کراچی میں ترقیاتی کاموں میں بہتری آ رہی ہے اور مزیدبہتری آئے گی۔
مزید پڑھیں۔بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج، سڑکیں بند، سیاح محصور، 2 افراد جاں بحق















