اہم خبریں

پنجاب اور وفاق لوکل گورنمنٹ الیکشن سے نہیں بھاگ رہے،بیرسٹر عقیل ملک

اسلام آباد(اے بی این نیوز          ) وفاقی وزیر قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ جنگ بندی سے متعلق اقدامات میں مسلم ممالک کی صفِ اول میں شامل ہے اور عالمی فورمز پر پاکستان نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ اے بی این کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے کسی بھی مرحلے پر اپنی اصولی اور پرنسپل پوزیشن پر سمجھوتہ نہیں کیا اور اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کی گئی۔ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد دیرپا امن کو یقینی بنانا ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ فیصلہ بغیر مشاورت کے کیا گیا۔ ان کے مطابق ہر بڑے فیصلے کے لیے باقاعدہ کابینہ اجلاس لازم نہیں ہوتا اور ہر معاملہ میڈیا پر لانا بھی ضروری نہیں کیونکہ ریاستی معاملات حساس نوعیت کے ہوتے ہیں۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو قابلِ احترام رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ بیرسٹر عقیل نے مزید کہا کہ یہ پی ٹی آئی دور کی طرح بند لفافوں میں فیصلے کرنے کا معاملہ نہیں ہے اور غزہ میں امن کا حل اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 کے تحت ہونا چاہیے۔اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ صرف پی ٹی آئی کا مؤقف نہیں بلکہ پیپلز پارٹی بھی اس معاملے پر متحرک ہے، تاہم 18ویں ترمیم ختم نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم لوکل گورنمنٹ تک اختیارات کی منتقلی میں رکاوٹ ہے، مگر اس کے خلاف کسی مہم یا رول بیک کی کوئی بات نہیں ہو رہی۔

بلدیاتی نظام سے متعلق انہوں نے کہا کہ پنجاب اور وفاق لوکل گورنمنٹ الیکشن سے نہیں بھاگ رہے، قانون مکمل ہوتے ہی بلدیاتی انتخابات ہوں گے۔ ان کے مطابق ایم این ایز کو وہ کام کرنا پڑ رہے ہیں جو لوکل گورنمنٹ کے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ غیر جماعتی بلدیاتی نظام عدالتوں میں چیلنج ہونے اور پی ٹی آئی کی جانب سے قانون کو چیلنج کرنے کے باعث قانونی رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس سے عملدرآمد تاخیر کا شکار ہوا۔ اے بی این کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں کہا کہ

بیرسٹر عقیل نے کہا کہ ایم کیو ایم کا مطالبہ سیاسی مؤقف ہو سکتا ہے مگر آئینی حل ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اٹھارویں ترمیم آئینی اتفاقِ رائے سے منظور ہوئی تھی، آئین اور قوانین میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے، مگر یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت اختیارات واپس لینا چاہتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کا مقصد اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے، اس میں بہتری ہو سکتی ہے مگر خاتمے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بیرسٹر عقیل ملک نے آخر میں واضح کیا کہ قومی مفاد کے خلاف کوئی فیصلہ زیر غور نہیں۔
مزید پڑھیں  :8 فروری کو یومِ احتجاج ،محمود خان اچکزئی کا اہم ترین بیان سامنے آگیا،جا نئے کیا

متعلقہ خبریں