اسلام آباد ( اے بی این نیوز )اسلام آباد میں پنجاب بلدیاتی انتخابات میں عدم تعاون کیس کی سماعت کے دوران خاصی گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی، جس میں چیف سیکرٹری پنجاب بھی الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔
الیکشن کمیشن حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے، مقررہ وقت تک رولز نوٹیفائی نہیں کیے گئے اور حلقہ بندیوں کے جو رولز شیئر کیے گئے وہ بھی نامکمل ہیں۔ حکام کے مطابق پنجاب میں مقامی حکومتوں کی مدت 31 دسمبر 2021 کو ختم ہو چکی ہے لیکن اب تک آئینی تقاضوں کے مطابق انتخابات نہیں کروائے گئے۔
کمیشن حکام نے کہا کہ آئین 120 دن میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کو یقینی بنانے کا پابند کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق صوبہ الیکشن کمیشن کو ہدایت نہیں دے سکتا۔ حکام نے زور دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو الیکشن کمیشن آرٹیکل 218 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرے گا۔اگر ضرورت ہوئی تو آئندہ سماعت پر وزیراعلی پنجاب کو بلائیں گے،
سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے دلچسپ سوال اٹھایا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں کیا چیز مشترکہ ہے؟ اس پر ممبر پنجاب نے جواب دیا کہ دونوں جگہ ایک ہی پارٹی کی حکومت ہے، جس پر کمرہ عدالت میں قہقہ لگ گیا۔
ممبر خیبرپختونخوا نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت احکامات نہ مانے تو نااہل قرار دینا چاہیے۔ اس پر کمیشن حکام نے وضاحت کی کہ توہینِ کمیشن میں ایک سیکنڈ کی سزا بھی نااہلی کا باعث بن سکتی ہے، تاہم چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ابھی وہ اس اسٹیج پر نہیں پہنچے۔
سیکرٹری بلدیات پنجاب نے مؤقف اپنایا کہ حلقہ بندی رولز میں تاخیر صوبائی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی وجہ سے ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حدبندی رولز نوٹیفائی ہو چکے ہیں اور اعتراضات سنے جا رہے ہیں، جو مکمل ہونے کے بعد کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ رولز منظور ہوتے ہی حلقہ بندیوں پر کام شروع کر دیا جائے گا۔
چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ ڈیڈ لائن سے پندرہ روز قبل سمری بھیجی گئی تھی، پنجاب میں نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم آ رہا ہے اور یونین کونسلز تک کے رولز تیار کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم آج ہی کمیشن حکام کے ساتھ بیٹھ جائے گی اور رولز کو ری ڈرافٹ کر کے شیئر بھی کر دیا گیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب لوکل گورنمنٹ نہیں ہوتی تو صوبائی حکومت بھی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کا نہ ہونا شرمندگی کی بات ہے اور اگر تعاون نہ کیا گیا تو کمیشن خود تمام معاملات ٹیک اوور کرے گا۔
کمیشن نے اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا جو 10 فروری تک اپنا کام مکمل کرے گی۔ چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت دی کہ 10 فروری تک حلقہ بندیوں میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں اور پنجاب حکومت 20 فروری تک تمام تیاریاں مکمل کرے، ورنہ کمیشن خود فیصلہ کرے گا۔
آخر میں الیکشن کمیشن نے پنجاب بلدیاتی انتخابات کے کیس کی مزید سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے اور عوام مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں :اہم سیا سی پیش رفت،پیپلز پارٹی راضی ہو گئی،جا نئے کن معا ملات پر















