اہم خبریں

پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کو بھی مذاکرات میں آگے آنا ہوگا،فیصل چودھری

اسلام آباد ( اے بی این نیوز      ) فیصل چودھری نےکہا کہ پورے پاکستان میں بلڈنگ سیفٹی کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، جس کے باعث انسانی جانیں شدید خطرے میں ہیں۔ صرف کراچی میں 2,466 خطرناک عمارتیں موجود ہیں، مگر ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ بلڈنگ سیفٹی کمیشن کو آئینی تقاضوں کے تحت صوبائی نظام سے منسلک کرنا ناگزیر ہے تاکہ ذمہ داری کا تعین اور عملی اقدامات ممکن ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ آتشزدگی کے واقعات میں نہ مناسب کیمیکلز دستیاب تھے اور نہ ہی حفاظتی انتظامات، جس کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ پلازہ مالکان کی بروقت گرفتاری کیوں نہیں ہوئی، اور کہا کہ بااثر طبقے کو غیر قانونی تعمیرات کی کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ فیصل چودھری نے الزام لگایا کہ بلڈرز کی ملی بھگت سے غیر قانونی عمارتوں کو تحفظ دیا جاتا رہا، جبکہ ملک بھر میں فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی نظام کسی بڑے حادثے سے نمٹنے کے قابل نہیں۔بلدیاتی نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آمرانہ ادوار میں لوکل گورنمنٹ نسبتاً فعال رہی، مگر جمہوری ادوار میں اسے مسلسل کمزور کیا گیا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے ادوار میں اختیارات کی منتقلی ناکام رہی، قانون سازی تو ہوئی مگر بلدیاتی اداروں کو عملی اختیارات اور وسائل نہ مل سکے۔ فیصل چودھری نے کہا کہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باوجود مؤثر بلدیاتی نظام قائم نہ کر سکا، لاہور پر ہزاروں ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ جنوبی اور وسطی پنجاب کے اضلاع ترقی سے محروم رہے۔

سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے فیصل چودھری نے کہا کہ مذاکرات ہی سیاسی مسائل کا واحد حل ہیں۔ انہوں نے اسمبلی میں محمود اچکزئی کی تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ ناصر عباس اور دیگر رہنماؤں کو معاملات حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت سے بھی بات چیت کے ذریعے مسائل سلجھانے کی اپیل ہے، کیونکہ سیاست میں ڈیڈلاک کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ کو عوامی پالیسی سازی کا مرکز بنایا جائے اور تمام ادارے آئین کے مطابق کام کریں۔ انتخابی تنازعات کوئی نئی بات نہیں، ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں، مگر مذاکرات صرف باتوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے کامیاب ہوتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ خواتین ورکرز اور سیاسی کارکنان کے خلاف مقدمات مذاکرات میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، اور سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کی سیاسی اسپیس تسلیم کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک سے نظام مفلوج ہو رہا ہے، جبکہ سیاسی استحکام کے بغیر معیشت بحال نہیں ہو سکتی۔
فیصل چودھری نے کہا کہ محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس جیسے سیاسی رہنما مثبت اور مفید کردار ادا کر سکتے ہیں، اور پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کو بھی مذاکرات میں آگے آنا ہوگا۔ آخر میں انہوں نے زور دیا کہ سیاسی حل کے لیے سمجھداری، تعاون اور نیت کی درستگی ضروری ہے، اور ہم سب کی نیت مذاکرات کو کامیاب بنانے کی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بلڈنگ مالکان اور تعمیر کرنے والوں پر سنگین سوالات اٹھ چکے ہیں اور ابتدائی تحقیقات میں بلڈنگ بائی لاز کی کھلی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پلازے میں گنجائش سے زائد دکانیں قائم تھیں اور حفاظتی انتظامات کا مکمل فقدان تھا، جبکہ نگرانی کرنے والا کوئی مؤثر ادارہ موجود نہیں تھا۔ انہوں‌ نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں کسی حکومت کا راستہ روکنے کا کوئی اقدام نہیں کیا گیا، اور اسمبلی یا سینیٹ کے اراکین کا کام مقامی سطح کے مسائل حل کرنا نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق مقامی مسائل کے حل کی اصل ذمہ داری مقامی نمائندوں پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم متعدد بار مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، تاہم اس کے لیے سیاسی شعور اور مثبت رویہ اپنانا ضروری ہے۔

تیسری جانب ، پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے کہا کہ عمارت میں اصل منظوری 1021 دکانوں کی تھی، تاہم نوٹسز کے باوجود ٹیکس ادائیگی اور حفاظتی تقاضوں پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات اور انسانی غفلت کو ایک جیسا قرار نہیں دیا جا سکتا، اور سانحہ گل پلازہ میں انتظامی ناکامی واضح طور پر سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق 200 سے زائد میٹنگز میں حفاظتی ہدایات دی گئیں اور متاثرہ دکانداروں کو متعدد بار نوٹسز جاری کیے گئے، مگر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ بلڈرز کی ملی بھگت سے غیر قانونی عمارتوں کو طویل عرصے تک تحفظ دیا جاتا رہا، جبکہ کراچی کے انفراسٹرکچر اور ٹریفک مسائل کا موازنہ لاہور یا اسلام آباد سے نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں : 8 فروری کو بسنت ، اب زمین اور آسمان پر بھی عمران خان کی پتنگوں سے احتجاج ہوگا، نورین نیازی کا اعلان

متعلقہ خبریں