اسلام آباد ( اے بی این نیوز ) فواد چودھری نے کہا کہ دونوں اپوزیشن لیڈرز کی تقرری کو ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی خوش آئند ہے اور اسے ویلکم کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے سیاسی ماحول میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ اب اپوزیشن کے لیڈر اس پیش رفت کے بعد کیا کردار ادا کرتے ہیں۔
فواد چودھری کا کہنا تھا کہ اصل کام سیاسی رہنماؤں اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے اقدامات ہیں، کیونکہ اسی سے سیاسی درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست میں ذاتی تعلقات اور ریلیشن شپ بہت اہم ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے پی ٹی آئی میں اس وقت ایسے لوگ موجود نہیں جو مؤثر رابطہ کاری کر سکیں۔ ان کے مطابق سب سے پہلے ماحول بہتر بنانے پر فوکس ضروری ہے، تاکہ کسی بھی سنجیدہ پیش رفت کی راہ ہموار ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے سازگار ماحول بنانا ناگزیر ہے، اور اگر سیاسی قیدیوں کو رہا نہیں کیا گیا تو مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔ فواد چودھری کے مطابق ایسی ناکامی کی صورت میں بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی، جس کے اثرات صرف ایک جماعت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے سیاسی نظام کو متاثر کریں گے۔
فواد چودھری نے دعویٰ کیا کہ اب پی ٹی آئی کی ڈرائیونگ سیٹ محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کے پاس آ گئی ہے، اور ان دونوں کے پاس ایک آئینی اور سیاسی رول بھی آ چکا ہے۔ ان کے مطابق اگر سیاسی قیدیوں کی رہائی عمل میں نہ آئی تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور پورا عمل بے نتیجہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ناکام ہو جائے، اور ناکامی کی قیمت بہت بڑی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورت میں سہیل آفریدی کے پاس کوئی دوسرا چانس نہیں ہوگا۔ فواد چودھری کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑی تو لانگ مارچ ہو سکتا ہے اور وفاقی حکومت سخت ردعمل دے گی، جس سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
فواد چودھری نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات آئین کی بالادستی پر کیے جائیں گے، مگر اگر سیاسی قیدیوں کی رہائی نہیں ہوئی تو ان کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق حقیقی پیش رفت صرف اسی صورت ممکن ہے جب عملی اقدامات کیے جائیں، ورنہ بات چیت محض وقت گزاری ثابت ہوگی۔اے بی این کے پروگرام ’’تجزیہ‘‘ میں گفتگو کرتے ہو ئےکہا کہ
ان کے ان بیانات کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جہاں ایک طرف مذاکرات اور مفاہمت کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں، وہیں دوسری طرف لانگ مارچ، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور حکومت کے ممکنہ سخت ردعمل پر بھی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی فواد چودھری کی گفتگو کے کلپس وائرل ہو رہے ہیں اور صارفین اس پر بھرپور ردعمل دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں : پنجاب کی حالت نہیں بدلی، صرف چہرے بدل دیے گئے ہیں،سینیٹر ہمایوں مہمند















