اہم خبریں

ایف بی آر کا 4 درآمد شدہ موبائل فون برانڈز پر ’پی ٹی اے ٹیکس‘ میں بڑی کمی کا اعلان

اسلام آباد(اے بی این نیوز) ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے 62 اقسام کے پرانے اور استعمال شدہ برانڈڈ موبائل فونز کی درآمد کے لیے نئی کسٹمز ویلیوز مقرر کر دی ہیں، جن کا مقصد ڈیوٹیز کو عالمی منڈی میں رائج قیمتوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

اس سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ نے پیر کے روز ویلیوایشن رولنگ نمبر 2035 آف 2026 جاری کی۔ نئی ویلیوز کا اطلاق بغیر پیکنگ اور لوازمات کے کمرشل بنیادوں پر درآمد کیے جانے والے استعمال شدہ موبائل فونز پر ہوگا، جن میں ایپل، سام سنگ، گوگل پکسل اور ون پلس برانڈز شامل ہیں۔

حکام کے مطابق سابقہ ویلیوایشن رولنگ ڈیڑھ سال سے زائد پرانی ہو چکی تھی اور عالمی مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کی عکاسی نہیں کر رہی تھی۔ اس دوران کئی نئے اسمارٹ فون ماڈلز مارکیٹ میں آ چکے تھے جبکہ متعدد پرانے ماڈلز اپنی مدتِ استعمال پوری کر چکے تھے، جس کے باعث ڈیپریسی ایشن میں تبدیلی ضروری ہو گئی تھی۔

اسی وجہ سے کسٹمز حکام نے کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعات 25 اور 25A کے تحت نئی ویلیوایشن کا عمل شروع کیا، کیونکہ درآمدی ڈیکلئیرڈ ویلیوز اور اصل عالمی قیمتوں کے درمیان واضح فرق پایا گیا تھا۔

نئی رولنگ کے تحت کسٹمز ڈیوٹیز اور ٹیکسز کا تعین کسٹمز کی مقررہ ویلیوز پر کیا جائے گا، چاہے استعمال شدہ فونز کی حالت یا گریڈ کچھ بھی ہو۔

رولنگ کے تحت آنے کے لیے ضروری ہوگا کہ درآمد کیے جانے والے استعمال شدہ موبائل فونز پاکستان برآمد کیے جانے سے کم از کم چھ ماہ قبل ایکٹیویٹ کیے جا چکے ہوں۔ درآمد کنندگان کو ایکٹیویشن کی مدت ظاہر کرنا ہوگی، جس کی تصدیق متعلقہ اسیسنگ افسران کریں گے۔

جن برانڈز یا ماڈلز کو ویلیوایشن ٹیبل میں شامل نہیں کیا گیا، ان کے لیے کلیکٹریٹس کو کسٹمز ایکٹ کی دفعات 25(5) اور 25(6) کے تحت ویلیو مقرر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

کسٹمز حکام کے مطابق ویلیوایشن کے عمل کے دوران اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کیے گئے اور درآمد کنندگان کو اپنے مؤقف کے حق میں دستاویزات جمع کرانے کی دعوت دی گئی۔

ڈائریکٹوریٹ نے 90 دنوں کے درآمدی ڈیٹا کا جائزہ لیا، مارکیٹ سروے کیے اور مقامی مارکیٹوں کے دورے کر کے اصل فروخت قیمتوں کا اندازہ لگایا۔ چونکہ ٹرانزیکشن ویلیوز اور مماثل درآمدی ڈیٹا میں تضاد پایا گیا، اس لیے کسٹمز حکام نے کسٹمز ایکٹ کی دفعہ 25(7) کے تحت مارکیٹ انکوائری کو بنیاد بنا کر منافع اور مارجنز ایڈجسٹ کرنے کے بعد حتمی سی اینڈ ایف ویلیوز مقرر کیں۔

نظرثانی شدہ ویلیوایشن سے انڈر انوائسنگ کی حوصلہ شکنی، ریونیو میں بہتری اور استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد میں شفافیت لانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں۔پڑوسی ملک میں کورونا سے بھی زیادہ خطرناک ’’نپاہ وائرس‘‘ آگیا

متعلقہ خبریں