اہم خبریں

خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کی کرپشن، شیر افضل مروت ہوشربا حقائق سامنے لے آئے

پشاور(اے بی این نیوز)سینیئر سیاستدان و ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے خیبرپختونخوا میں ہونے والی کرپشن پر سوالات اٹھا دیے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر ایک بیان میں انہوں نے نام لیے بغیر خیبرپختونخوا کے ایک سینیئر بیوروکریٹ پر کرپشن کے الزامات عائد کیے ہیں۔

شیر افضل مروت نے کہاکہ اس بیوروکریٹ نے گزشتہ 10 سال کے دوران بڑے بڑے ریکارڈ توڑتے ہوئے ہزار ارب روپے سے زیادہ کے اثاثے جمع کرلیے ہیں، لیکن متعلقہ نظام خاموش ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایک سال قبل مبینہ طور پر اس بیوروکریٹ نے اپنے فرنٹ مین اسامہ کے ذریعے مہمند میں نیف رائٹ (Nephrite) کی ایک وسیع کان ڈی آئی خان کی ایک خاتون سے زبردستی حاصل کر لی تھی۔ شیر افضل مروت کے مطابق آج یہ کان ایک ارب روپے مالیت کی اے ٹی ایم مشین بن چکی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسی افسر نے پھندو کے قریب 5 ہزار کنال زمین خرید لی ہے اور منصوبہ ہے کہ اسے پی ڈی اے کے خرچ پر ڈیولپ کیا جائے، یعنی زمین ذاتی لیکن ترقی عوامی وسائل سے ہو۔

’قریباً ہر کنسلٹنٹ کو اعتراضات ختم کرنے کے لیے ادائیگی پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کے بعد فائلیں صاف اور نظام شفاف دکھایا جاتا ہے۔‘

شیر افضل مروت نے کہاکہ جلد تمام دستاویزی ثبوت قوم کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس وقت کسی کا نام نہیں لیا جا رہا اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا گیا ہے، بلکہ فیصلے حقائق کی بنیاد پر ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ اگر یہ تمام الزامات درست ثابت ہوئے تو کیا احتساب عمل میں آئے گا، یا پھر یہ معاملات ہمیشہ کی طرح فائلوں میں دفن کر دیے جائیں گے؟

شیر افضل مروت نے مزید کہاکہ جب ثبوت بولتے ہیں تو عہدے خاموش ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں۔جاپانی وزیراعظم کا 23 جنوری کو ایوان زیریں تحلیل، 8 فروری کو انتخابات کرانے کا اعلان

متعلقہ خبریں