اسلام آباد( اے بی این نیوز )قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے حلف کی آج تک پاسداری کی ہے اور آئین، قانون کے ساتھ ساتھ چادر اور چار دیواری کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایوان کے کردار، جمہوری اقدار اور عوامی حقوق پر تفصیل سے بات کی۔محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ یہ ایوان طاقت کا اصل مرکز ہونا چاہیے، چاہے حکومت کسی کی بھی ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب بھی حکومت عوام کی فلاح و بہبود کی بات کرے گی، اپوزیشن اس کے ساتھ کھڑی ہوگی، تاہم برے کاموں میں کسی کا ساتھ نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ کا بھی حکم ہے کہ غلط کاموں میں تعاون نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس ایوان کو طاقت کا سرچشمہ بنانا چاہتے ہیں اور اراکین کو چاہیے کہ ایسی زبان استعمال نہ کریں جو ماں، بہن یا خاندان کے سامنے کہی نہ جا سکے۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کے مشکل وقت کے ساتھی رہے ہیں اور آج تک کبھی ووٹ کے بدلے کسی سے پیسے نہیں لیے۔ ان کے مطابق انہوں نے نہ کبھی اپنا مؤقف بیچا اور نہ ہی اپنے حلف سے انحراف کیا۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ پاکستان 25 کروڑ انسانوں کا ملک ہے، یہاں لوگوں کو بولنے دیا جائے تاکہ وہ سیکھیں اور آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان شدید مشکلات میں ہے جبکہ دنیا کے کئی ممالک ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ محمود اچکزئی نے واضح کیا کہ پاک فوج اور پولیس اتنی مضبوط ہیں کہ کسی کا باپ بھی کسی کو اغوا نہیں کر سکتا۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ہزاروں لوگوں کو دہشت گردی کے نام پر گھروں سے نکالا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سردی کے موسم میں تیراہ جیسے علاقوں سے لوگوں کو بے دخل کرنا دہشت گردی کے خاتمے کا حل نہیں۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو افغانستان سے متعلق پاکستان کے خدشات سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے۔
محمود اچکزئی نے عالمی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اپنے راستے پر چلانے کے لیے پابندیاں لگائی گئیں، جبکہ فلسطین کے معاملے پر افواج بھیجنے کا فیصلہ اگر مشکل ہے تو اسے بھی ایوان میں لا کر بحث کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے انہیں ووٹ دیا، انہی کی بدولت آج اس ایوان کی عزت قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس آئین کے لیے آج جنگ لڑی جا رہی ہے، اس پر کبھی ان کے تحفظات بھی رہے ہیں۔
انہوں نے ایوان کی مضبوطی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو آئینی ترامیم ہوئیں، کاش انہیں ایوان کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ ایوان بچوں کے خلاف کیسز ختم کرنے کا فیصلہ کر لے تو کیا آسمان گر جائے گا۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ اگر ایوان بانی پی ٹی آئی سے متعلق کوئی قرارداد منظور کرے تو سیاسی ماحول کا درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی کو رہا نہیں کیا جاتا تو کم از کم ملاقاتوں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف ہمیشہ ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتے رہے ہیں اور وہ خود بھی ووٹ کی حرمت پر یقین رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں :پی ٹی آئی کیلئے بری خبر، جا نئے اہم فیصلہ















