کراچی (اے بی این نیوز ) سانحہ گل پلازہ 15 افراد کی زندگیاں نگل گیا،،65 افراد لاپتہ ہیں جبکہ 22 زخمی ہوئے،وزیر اعلیٰ سندھ نے تصدیق کر دی،جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئےفی کس ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان،،مراد علی شاہ نے کہا کہ جس رات آگ لگی کراچی میں نہیں تھا،، لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، امداد کی فراہمی کا سلسلہ کل سے شروع ہو جائے گا، آگ لگنے کی حتمی وجہ معلوم نہیں ہو سکی،، عمارت 40 فیصد مکمل تباہ ہو چکی ہے، شاید گل پلازہ کی عمارت کا مکمل گرانا پڑے،،100 فائر فائٹرز نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا،فائر فائٹر فرقان شہید ہو گیا، ، کوشش ہے لاپتہ افراد کا پتہ چل جائے،کمشنر کراچی کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے، متاثرین کی بحالی کیلئے مکمل تعاون کریں گے ، کمشنر کراچی نقصانات کا جلد تخمینہ لگائیں، پلازے میں 1200 کے قریب دکانیں تھیں،متاثرہ دکانداروں کو متبادل جگہ دی جائے گی، تاکہ وہ کاروبار شروع کر سکیں،واقعے میں تاحال تخریب کاری ثابت نہیں ہوئی، غیر ذمہ داری ثابت ہوئی تو سخت کارروائی کی جائے گی،
، اس وقت تمام انگلیاں اپنی طرف اٹھا رہا ہوں، یہ کمیٹی کسی کے پیچھے پڑنے والی نہیں ہوگی،اس کا مقصد غلطیوں سے سیکھنا اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کیلئے اقدامات اٹھانا ہے۔ کراچی میں آتشزدگی کا ہو لناک سا نحہ،،، تجارتی مرکز گل پلازہ جل کر خا کستر،33گھنٹوں بعد بجھائی گئی آگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی ،،،سیکڑو ں دکانداروں کی برسوں کی کمائی جل کرراکھ ہوگئی،،آگ نے کئی گھروں کے چراغ بھی گُل کر دیئے ،،مزید 9 لاشیں نکال لی گئیں ،اموات 15 ، ہوگئیں،،65افراد لاپتہ ، ،26 افراد کی آخری لوکیشن گل پلازہ آرہی ہے ،،اہل خانہ کسی معجزے کے منتظر ،،عمارت کا بڑا حصہ گرگیا ،، باقی عمارت کی حالت مخدوش ،،کسی وقت بھی زمین بوس ہوسکتی ہے ، تاجروں کا آج سوگ کا اعلان،، مارکیٹیں بند ،، امدادی کارروائیوں میں پاک فوج کا دستہ بھی شریک ، ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو کے مطابق جنوبی گل پلازہ میں لگی آگ پر مکمل قابوپالیاگیا،کولنگ کاعمل جاری ہے،بیسمنٹ تک رسائی ہوگئی، ، کراچی پولیس چیف کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں اب کوئی زخمی زیر علاج نہیں ،، تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے،، کسی کی غفلت پائی گئی تو مقدمے کا اندراج ہوگا،،، 3 منزلہ عمارت میں 1200 سے زائد دکانیں تھیں ۔
سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے،، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کا مطالبہ ،،، میڈیا سے گفتگو میں ،کہا،، پیپلزپارٹی کی17سالہ حکومت عیاں ہوگئی، کراچی کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا گیا مگر کوئی پوچھنے والا نہیں،،سندھ حکومت کچھ نہیں کررہی ، لیکن سب اچھاکی رپورٹ ہے،آپ کی ساری بریفنگ جل کر خاکستر ہو گئی ،،، شہربربادی کامنظرپیش کررہاہے کسی کوغریبوں کی فکرنہیں، لوگ پریشان ہیں سندھ حکومت ان کی مشکلات میں اضافہ کررہی ہے، خداراسنجیدگی سےلوگوں کےمسائل کوحل کرنےکی کوشش کریں
گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے صدر نے عمارت میں ہنگامی راستہ نہ ہونے کی اطلاعات کو مسترد کر دیا،،تنویر قاسم پاستا نے کہا کہ مال میں آگے لگی تو6 ہزار لوگ موجود تھے،، راستے نہ ہوتے تو 5 منٹ میں مال کیسے خالی ہوتا؟ ہمارے 40 سے زائد دکاندار لاپتہ ہیں،، ریسکیو ٹیم کے پانچ ممبرز بھی نہیں مل رہے ،، آگ پھولوں کی دکان میں لگی اور اے سی پائپنگ سے پھیلی، 55 منٹ تاخیر سے فائربریگیڈ کی صرف ایک گاڑی پہنچی۔
عمارت میں پھنسے افراد مدد کیلئے فون کرتے رہے مگر کوئی نہ پہنچ سکا ،، دکانداروں اور اہلِ خانہ نے امدادی کارروائی میں تاخیر پر سوال اٹھا دیئے،،، متاثرہ ہارون کے مطابق ان کے بھائی نے دکان سے والدین کو فون کر کے بچانے کی اپیل کی، مگر وہ لاپتا ہو گیا ،، سفیان کا کہنا تھا کہ اُن کے بہنوئی اور ایک سیلزمین آگ لگنے کے وقت دکان پر موجود تھے، جن کا تاحال کچھ پتا نہیں چل سکا
ہجوم کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ،، چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کہتے ہیں، کسی نے آگ کا نہیں بتایا، 15 سال کے بچے نے کال کی، فائرٹینڈرز اور موجودہ نفری کراچی کیلئے ناکافی ہے،،ابتدائی 6 گھنٹے میں سامنے کی آگ بجھا دی گئی تھی تاہم اندر تمام دکانیں جل رہی تھیں،
گل پلازہ کی آگ یا نظام کی ناکامی؟ بڑے شہر میں ایک اور بڑا سانحہ گزر گیا ،،،ذمہ داروں کا تعین نہ ہوسکا ،،سوالات بہت، جواب کوئی نہیں،، فائر سیفٹی فیل یا انسانی غفلت تھی ،،خوفناک شعلوں پر قابو پانے میں تاخیر کیوں ہو ئی ،،جانی نقصان کا ازالہ کیسے ممکن ہوگا؟ اجازت ناموں سے لیکر انسپکشن تک سیکڑوں سوالات جنم لینے لگے ،، سانحے میں حکو متی عہدا روں کی خا مو شی، میئر کرا چی 23گھنٹے منظر سے غا ئب رہے،، مرتضیٰ وہاب کی آمد پر تاجروں نےشدید نعرے بازی بھی کی
کراچی بار ایسوسی ایشن نے سانحہ گل پلازہ کو انتظامی غفلت اور ناقص نگرانی کا نتیجہ قرار دے دیا،، سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار،، کمرشل عمارتوں میں حفاظتی نظام کی ناکامی پر اظہار تشویش ،،وکلاء نے سانحہ کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی ،،آئینی درخواست حکومت سندھ ، کمشنر کراچی ،کے ایم سی، ایس بی سی اے سمیت دیگر کو فریق بنایاگیا،،سانحہ کے ذمےداروں کاتعین ،، نقصان کاتخمینہ کرکےازالہ کرنےکاحکم دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں :الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد کیلئے قانون سازی کی سفارش کردی















