کراچی (اے بی این نیوز )اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں کاروباری خواتین کو مالی طور پر مضبوط بنانے کے لیے ویمن انٹرپرینیورشپ فنانس یعنی WE-فنانس کوڈ کے نفاذ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا اور انہیں معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے ویمن انٹرپرینیورشپ فنانس کوڈ سے متعلق مشاورتی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کاروباری افراد کی مکمل مالی شمولیت کے لیے عملی اور مؤثر راستے تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کی کاروباری سرگرمیوں اور مالیاتی خدمات تک رسائی میں بہتری اسٹیٹ بینک کے اسٹریٹجک پلان 2028 کا ایک اہم ستون ہے۔
ڈپٹی گورنر کے مطابق اگرچہ حالیہ برسوں میں مالیاتی خدمات تک مجموعی رسائی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن خواتین کاروباری افراد کو اب بھی رسمی قرضوں کے حصول میں کئی ساختی مسائل اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ WE-فنانس کوڈ ایک جامع اور قابلِ عمل فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو ان رکاوٹوں کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا۔
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 7 جولائی 2025 کو WE-فنانس کوڈ کو اپنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستان میں 23 مالیاتی اداروں پر مشتمل ایک اتحاد تشکیل دیا گیا ہے، جس میں کمرشل، اسلامی اور مائیکروفنانس بینک شامل ہیں، جبکہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن بھی اس کا حصہ ہے۔
WE-فنانس کوڈ کے نفاذ کے سلسلے میں اسٹیٹ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے اسلام آباد میں دو روزہ مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں بینکوں، ریگولیٹرز اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے دوران خواتین کی زیرِ قیادت کاروباروں کے لیے مالیاتی مصنوعات، قرضہ جاتی نظام اور ڈیٹا رپورٹنگ کو بہتر بنانے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
ورکشاپ سے قبل اسٹیٹ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے وفود نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں ادارہ جاتی تعاون اور پالیسی ہم آہنگی پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف خواتین کی مالی رسائی میں اضافے کا باعث بنیں گے بلکہ کاروباری مواقع کو فروغ دے کر پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد بھی مضبوط کریں گے۔
مزید پڑھیں :ایران کے صدر نے انتہائی سخت اور دو ٹوک انتباہ جاری کر دیا ،جا نئے کیا















