کراچی(اے بی این نیوز ) کراچی میں تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر متفقہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس پر کانفرنس میں شریک تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے دستخط کیے۔ اعلامیہ تحریک کے ترجمان اخنزادہ حسین احمد یوسفزئی نے پڑھ کر سنایا۔ اعلامیہ میں ملک کو درپیش آئینی، جمہوری، سیاسی، عدالتی اور معاشی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سات نکاتی مطالبات پیش کیے گئے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان میں آئینی اور جمہوری بحالی صرف آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے فوری طور پر ایک غیر جانبدار نیا چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا جائے اور ایک بااختیار الیکشن کمیشن کے تحت شفاف انتخابات کرائے جائیں۔ اعلامیہ میں 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ بدترین دھاندلی کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ذمہ دار عناصر کا تعین کر کے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سزا دی جائے۔
اعلامیہ میں سندھ حکومت کی کارکردگی کو مکمل طور پر ناکام قرار دیا گیا۔ اس میں کراچی کے علاقے صدر میں گل پلازہ میں آتشزدگی، اندرونِ سندھ ڈاکو راج، کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات، بچوں کا کھلے گٹروں میں گر کر جاں بحق ہونا، پانی کی قلت اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کو سندھ حکومت کی ناکامی کی واضح مثالیں قرار دیا گیا۔
عدلیہ سے متعلق مطالبات میں کہا گیا کہ عدالتی ستون کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ 26ویں اور نام نہاد 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے ججز کے تبادلوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا، جس سے عدلیہ کی آزادی ختم ہوئی۔ اعلامیہ کے مطابق باضمیر ججز کو ادارے سے علیحدگی پر مجبور کیا گیا، جن میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا شامل ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف کارروائی کو بھی عدلیہ پر دباؤ کی تازہ مثال قرار دے کر شدید مذمت کی گئی۔
اعلامیہ میں تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا، جن میں سابق وزیراعظم عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، شاہ محمود قریشی، سینیٹر اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید، ساجدہ حامد رضا، حسن نیازی، علی وزیر، عبدالصمد اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران شامل ہیں۔ عمران خان سے اہلِ خانہ اور وکلا کی ملاقاتوں پر عائد پابندیاں فوری ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
اظہارِ رائے اور میڈیا سے متعلق اعلامیہ میں پیکا قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ صحافی ارشد شریف کے قتل، صحافی مہدی علی جان کے خلاف مقدمات اور میڈیا ورکرز کی برطرفیوں کی بھی مذمت کی گئی۔ انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف قائم مقدمات ختم کر کے شفاف ٹرائل یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی 44 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے جبکہ بے روزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ کاری تقریباً ختم ہو چکی ہے، ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک چھوڑ رہی ہیں اور ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہے۔ ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور خوف کی فضا کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے متعلق مطالبات میں کہا گیا کہ گرینڈ جرگے کے متفقہ فیصلوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔ ضلع وزیرستان خصوصاً وانا اور تیراہ میں جاری فوجی آپریشن فوری بند کیا جائے اور وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے معاملات میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے۔اعلامیہ کے اختتام پر کہا گیا کہ یہ تمام مطالبات آئینِ پاکستان، انسانی حقوق اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ہیں، اور ملک کو بحران سے نکالنے کا واحد راستہ آئین کی بالادستی، جمہوریت کی بحالی اور عوامی حقوق کا مکمل احترام ہے۔
مزید پڑھیں :آئندہ موسم کیسا رہے گا،کہاں بارش اور برفباری ہو گی،جانئے















