اسلام آباد (اے بی این نیوز )وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئی پی پیز سے کامیاب مذاکرات کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں کمی ممکن بنائی، جبکہ میرٹ پر فیصلے کرتے ہوئے مستقبل کے 8000 میگاواٹ کے مہنگے بجلی منصوبے بھی ختم کر دیے گئے۔
اویس لغاری کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں ملک کو 17 ارب ڈالر سے زائد کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو پاور سیکٹر کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا کی رپورٹ اگست 2025 میں جاری ہونی چاہیے تھی، تاہم یہ رپورٹ پاور سیکٹر کے درست اور حقیقی منظرنامے کو پیش کرنے میں ناکام رہی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں ہونے والے نقصانات عام صارفین پر منتقل نہیں کیے جاتے۔ ناکافی اور نامکمل اعداد و شمار کی وجہ سے نیپرا رپورٹ سے کئی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں، جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔اویس لغاری کا کہنا تھا کہ 40 ارب روپے کی اوور بلنگ کا بوجھ بھی صارفین پر نہیں ڈالا گیا۔ حکومت بجلی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات متعارف کرا کر مسائل کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بجلی صارفین کو اب اپنے میٹر کی خود ریڈنگ کا اختیار دے دیا گیا ہے، جبکہ جدید ترین سمارٹ فون ایپلی کیشن ”اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ“ بھی صارفین کے لیے دستیاب کر دی گئی ہے، جس سے شفافیت بڑھے گی اور شکایات میں واضح کمی آئے گی۔وفاقی وزیر کے مطابق حکومت کا ہدف پاور سیکٹر کو مستحکم بنانا اور بجلی صارفین کو حقیقی ریلیف فراہم کرنا ہے۔
مزید پڑھیں :سہیل آفریدی کی سٹریٹ موومنٹ جاری،ایبٹ آباد میں قافلہ روک لیا گیا،جا نئے کس نے روکا اور کیوں















