اسلام آباد (اے بی این نیوز)مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ خوشی ہے اب یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اپوزیشن تشدد کی سیاست سے پیچھے ہٹے گی اور ملک میں سیاسی ماحول بہتری کی طرف بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور شہادتوں کی سیاست کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ ایسے اقدامات نے ماضی میں جمہوری عمل کو شدید نقصان پہنچایا۔
خرم دستگیر نے کہا کہ ریڈیو پاکستان اور جناح ہاؤس جیسے واقعات کی کھل کر مذمت ہونی چاہیے، کیونکہ تشدد کسی بھی صورت سیاسی اختلاف کا حل نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق سیاسی اختلاف کا اظہار پارلیمان کے اندر ہونا چاہیے اور جمہوری اپوزیشن کو اپنا مؤقف آئینی فورمز پر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سیاست میں تشدد سے دوری اختیار کی جائے تو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے امکانات خود بخود بڑھ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ورکنگ ریلیشن قائم ہونے کے امکانات پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہیں، جبکہ ماضی میں اپوزیشن لیڈر کی بات تک سننے کو تیار نہیں ہوا جاتا تھا اور کبھی قانونی نکات تو کبھی طریقہ کار کا بہانہ بنایا جاتا رہا۔
خرم دستگیر کے مطابق اب سیاسی ماحول میں تبدیلی کے آثار نظر آ رہے ہیں اور ڈائیلاگ کا راستہ کھلنا جمہوریت کے لیے ایک مثبت پیشرفت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کچھ رہنماؤں کی جانب سے کھلی دھمکیوں، بندوقیں صاف کرنے یا گھروں میں گھسنے جیسے بیانات ناقابل قبول ہیں کیونکہ یہ تشدد کو ہوا دیتے ہیں۔ آگ لگانے اور قتل کی دھمکیاں سیاسی کلچر کو تباہ کر رہی ہیں اور پاکستانی سیاست کو فوری طور پر تشدد کے بیانیے سے پیچھے ہٹنا ہوگا۔وہ اے بی این نیوز کے پروگرام ’’ڈیبیٹ@8‘‘ میں گفتگو کررہے تھے انہوں نے کہا
سیاسی اختلاف کا جواب تشدد نہیں بلکہ مکالمہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آگے بڑھنے کے لیے ایک دوسرے کو قبول کرنا ہوگا اور اختلاف کے باوجود باہمی احترام ہی جمہوریت کی اصل بنیاد ہے۔ خرم دستگیر نے کہا کہ مخالف ہونا دشمن ہونا نہیں ہوتا، سیاسی برداشت اور آئینی جدوجہد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔
دہشت گردی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیڈ لینے کے بجائے ابہام پیدا کیا جا رہا ہے جو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ تاہم قومی اسمبلی کے نئے آغاز کے ساتھ اپوزیشن کی سیاست میں بہتری کی امید ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ورکنگ ریلیشن ناگزیر ہے اور سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
خرم دستگیر نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے ملک مخالف بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں اور ماضی میں سیاسی تمسخر اور تضحیک کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ آئین اور جمہوریت ہی سیاسی جدوجہد کا واحد راستہ ہیں اور اسی راستے پر چل کر ملک کو سیاسی استحکام کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں :اسکولوں کے نئے اوقاتِ کار آگئے،جا نئے تفصیلات















