اسلام آباد(اے بی این نیوز)ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے چیئرمین ملک بوستان نے کہا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے تیار کردہ جے ایف 17 لڑاکا طیاروں کی درآمد میں 15 ممالک کی دلچسپی کے باعث امریکی ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔
ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ملک بوستان کا کہنا تھا کہ ڈالر کے 250 روپے سے نیچے آنے کے قوی امکانات ہیں۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فے۔
ای سی اے پی چیئرمین کے مطابق روپے کی قدر میں بہتری کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ، جے ایف 17 طیاروں کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مانگ اور اسٹاک مارکیٹ کی مضبوط بحالی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹاک مارکیٹ 46 ہزار پوائنٹس سے بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ 85 ہزار پوائنٹس تک پہنچ چکی ہے۔
ملک بوستان نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران ڈالر 290 روپے سے زائد سطح سے کم ہو کر تقریباً 281 روپے پر آ گیا ہے، جو قریباً 9 روپے کی کمی ہے۔
انہوں نے روپے کی موجودہ استحکام کو عارضی قرار دینے کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی حقیقی قدر 250 روپے سے بھی کم ہے۔
انہوں نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ 2022 میں ذخائر 3 ارب ڈالر سے بھی کم تھے، جو اب بڑھ کر تقریباً 22 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
حکومت پر تنقید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ملک بوستان کا کہنا تھا کہ معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی اور اس کی بحالی میں وقت لگنا فطری عمل ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ چند سال قبل ڈالر کے 500 روپے تک پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے، جبکہ اب توقعات 250 روپے یا اس سے بھی کم سطح کی طرف جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں۔گیس کی لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول سامنے آگیا















