اسلام آباد (اے بی این نیوز ) وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے واضح کیا کہ بانی تحریک انصاف سے ملاقات کرانا اسپیکر قومی اسمبلی کا اختیار نہیں، یہ فیصلہ جیل انتظامیہ اور حکومت کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ملاقات ہو یا نہ ہو، کیونکہ بانی پی ٹی آئی کی وکلا اور اہلِ خانہ سے ملاقاتیں پہلے ہی جاری ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف جیل کو سیاسی ہیڈکوارٹر بنانا چاہتی ہے اور ملاقاتوں کے معاملے کو غیر ضروری طور پر ایشو بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جیل ملاقاتیں سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہو سکتیں، تاہم ذاتی نوعیت کی ملاقاتوں پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں۔
طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ریاست مخالف بیانیے پر تحفظات سامنے آئے، اسی لیے ملاقاتوں کے لیے کسی قسم کی گارنٹی ضروری سمجھی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اگر چاہیں تو ملاقاتوں میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے معاملے پر بات کرتے ہوئے طارق فضل چودھری نے کہا کہ تحریک انصاف محمود خان اچکزئی کو لیڈر آف اپوزیشن بنانا چاہتی ہے، لیکن پی ٹی آئی کے موجودہ کئی ایم این ایز نے ان کی اہلیت پر سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی تقرری میں تاخیر کی اصل وجہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنی پارلیمانی ٹیم پر مکمل اعتماد نہیں رہا اور پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں، جس کی وجہ سے اپوزیشن لیڈرشپ کے معاملے پر پی ٹی آئی تقسیم کا شکار ہے۔
طارق فضل چودھری نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے رولز اینڈ پروسیجرز پڑھ کر اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا قانونی طریقہ واضح کر دیا ہے اور اپوزیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسپیکر آفس میں آ کر باضابطہ نامزدگی دے۔مذاکرات سے متعلق گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کا چیمبر مذاکرات کے لیے ایک نیوٹرل پلیٹ فارم ہے اور حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم پی ٹی آئی میں مذاکرات کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج تحریک انصاف کا حق ہے، لیکن تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا اور اگر مظاہرے پرتشدد ہوئے تو حکومت کارروائی کرے گی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی قیادت موجودہ صورتحال کو ذمہ دارانہ انداز میں ہینڈل نہیں کر رہی، جس کی وجہ سے سیاسی بے یقینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بیٹھ کر گفتگو کریں۔ یہ ممکن نہیں کہ شرائط رکھ کر یا بیانات کے ذریعے دباؤ ڈال کر مذاکرات کیے جائیں۔ طارق فضل چودھری کے مطابق مشکل ترین ماحول میں بھی بات چیت ہی مسائل کا واحد حل ہوتی ہے اور مکالمے کے دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ملاقاتوں، جمہوریت، آئینی امور سمیت ہر مسئلے پر بات ہو سکتی ہے اور کسی موضوع کو خارج نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات کے لیے لچک ضروری ہے۔سیاسی اتحاد سے متعلق بات کرتے ہوئے طارق فضل چودھری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک الگ منشور رکھنے والی جماعت ہے، تاہم ملک اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے، اسی لیے پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق ملکی بہتری کے لیے اتحادی جماعتیں کندھے سے کندھا ملا کر چل رہی ہیں اور سیاسی اختلاف کے باوجود اتحاد برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے درمیان رابطہ اور مشاورت کا عمل مسلسل جاری ہے اور قومی مفاد کو ذاتی یا سیاسی مفاد پر ترجیح دی جا رہی ہے۔صدر مملکت کے حوالے سے گفتگو میں طارق فضل چودھری نے کہا کہ صدر نے دانستہ طور پر فائل پر دستخط نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت پر مختلف آرا ہو سکتی ہیں، مگر زمینی حقائق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ ملک کو اس وقت معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم حکومت ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہے۔ حکومتی اخراجات کم کرنے کے لیے مختلف کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں اور وزیراعظم ہاؤس سے لے کر تمام وزارتوں تک اخراجات میں کمی پر کام جاری ہے۔طارق فضل چودھری کے مطابق ہر ڈیپارٹمنٹ میں کفایت شعاری کے اقدامات کا آغاز ہو چکا ہے اور حکومت کا مقصد وسائل کا درست استعمال اور عوام کو معاشی استحکام کی طرف لے جانا ہے۔
مزید پڑھیں :امریکہ کا 24 گھنٹوں میں ایران پر اٹیک،یورپی حکام کا انکشاف















