اہم خبریں

پیپلز پارٹی کے تحفظات اپنی جگہ، لیکن اس سے نظام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں، رانا ثنا اللہ

اسلام آباد (ا ے بی این نیوز         ) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سیاسی مشاورت کے ذریعے معاملات حل کرنے پر اتفاق ہوا ہے اور آرڈیننس کے نوٹیفکیشن پر پیدا ہونے والا تنازع محض کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے سامنے آیا۔رانا ثنا اللہ کے مطابق پیپلز پارٹی نے آرڈیننس کے حوالے سے احتجاج کیا تھا، جس میں مدت اور قانونی پہلوؤں پر اعتراضات شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ایوان کے اندر اپنے تحفظات کھل کر بیان کیے، جس پر وزیراعظم نے فوری طور پر اتحادی جماعت سے مشاورت کی۔ مشاورت کے بعد مسئلہ حل کر لیا گیا اور نوٹیفکیشن باقاعدہ طور پر جاری کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بڑے عزم کے ساتھ معاشی استحکام پر کام کر رہی ہے اور آئندہ دنوں میں عام آدمی کے لیے بہتر حالات کی توقع ہے۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اصلاحاتی اقدامات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اکثریت کے تعین کا عمل شروع ہو چکا ہے اور سپیکر نے ہدایت دی ہے کہ جمعرات تک یہ پروسیس مکمل کیا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جمعرات تک اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی ہو جائے گی، تاہم نوٹیفکیشن کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ارکان کے دستخط مکمل ہوں اور فلور آف دی ہاؤس میں تمام ارکان کی موجودگی کے ساتھ عمل کو حتمی شکل دی جائے۔

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کو حکومت سے تحفظات رہ سکتے ہیں، لیکن اس سے نظام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ دوسری جانب انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مزاحمت کا فیصلہ کر چکی ہے اور اس وقت اس کی توجہ مکمل طور پر احتجاجی سیاست پر مرکوز ہے، جس کے باعث موجودہ حالات میں مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔اے بی این کے پروگرام’سوال سے آگے‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا

کہ اگر مستقبل میں حالات بدلتے ہیں تو صورتحال بھی تبدیل ہو سکتی ہے، تاہم 8 فروری تک کسی مفاہمت کی توقع نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اگر 8 فروری کی ہڑتال کے حوالے سے کوئی واضح بیان دیتے ہیں تو پھر ملاقات ممکن ہو سکتی ہے۔ رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ قانون کسی بھی غیر قانونی یا متنازع کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔پروگرام کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سعید غنی نے سندھ کی روایت کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اجرک پہنائی، جبکہ ملاقات کا اصل مقصد سالانہ اہداف کی تیاری اور کارکنوں کو موٹیویشن فراہم کرنا تھا۔

مزید پڑھیں :عمران خان کی رہائی کے حوالے سے علیمہ خان نے اہم اعلان کر دیا،جا نئے کیا

متعلقہ خبریں