اہم خبریں

5G اسپیکٹرم نیلامی کے لیے قواعد و ضوابط جاری

اسلام آباد (  اے بی این نیوز      )پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ملک میں 5G اسپیکٹرم نیلامی کے لیے سخت قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق نیلامی میں حصہ لینے والی تمام لائسنس یافتہ ٹیلی کام کمپنیوں پر ہوگا۔ ان ضوابط کا مقصد صارفین کے تحفظ، معیاری سروس کی فراہمی اور جدید ٹیلی کمیونیکیشن نظام کو یقینی بنانا ہے۔پی ٹی اے کی جاری کردہ دستاویز کے مطابق 5G آپریٹرز کے لیے ایمرجنسی سروسز کی فراہمی لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ تمام قانونی تقاضوں کے مطابق نگرانی کے نظام پر مکمل عملدرآمد بھی ضروری ہوگا۔ کسی بھی کمپنی کو صارفین کے ساتھ امتیازی سلوک یا غیر مسابقتی خدمات فراہم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ نمایاں مارکیٹ پاور رکھنے والی کمپنیوں کے ٹیرف پی ٹی اے کی نگرانی میں ہوں گے تاکہ صارفین کو بلا جواز مہنگی سروسز سے محفوظ رکھا جا سکے۔ فائیو جی ٹیرف کو ٹیلی کام کنزیومر پروٹیکشن ریگولیشنز 2009 سے مشروط کیا گیا ہے، جبکہ آپریٹرز پر صارفین کے ڈیٹا اور پرائیویسی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی بھی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ضوابط کے تحت 4G اور 5G نیٹ ورک کی کوریج میپس کمپنیوں کی ویب سائٹس پر فراہم کرنا لازمی ہوگا، جبکہ صارفین کی کمیونیکیشن کی رازداری برقرار رکھنا لائسنس کی بنیادی شرط قرار دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لائسنس یافتہ کمپنیوں کو مقامی سطح پر موبائل اور ٹیلی کام آلات کی تیاری کو فروغ دینا ہوگا تاکہ مقامی صنعت کو تقویت مل سکے۔

پی ٹی اے کے مطابق نیٹ ورک کوریج اہداف کے حصول کے لیے آپریٹرز کو کارکردگی بینک گارنٹی جمع کرانا ہوگی اور ہر صورت میں کوالٹی آف سروس کے مقررہ معیارات پر عمل کرنا لازم ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ 5G اسپیکٹرم نیلامی فروری 2026 کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد پاکستان میں جدید ترین اور تیز رفتار موبائل نیٹ ورک کی سہولت دستیاب ہو سکے گی۔

مزید پڑھیں :نیشنل ایکشن پلان پر ہر صورت عملدرآمد کیا جائے گا ،حکومت کا دو ٹوک اعلان

متعلقہ خبریں