اسلام آباد ( اے بی این نیوز )نیشنل گرڈ اسٹیشن میں فنی خرابی کے باعث لاہور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہو گیا، جس سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ذرائع کے مطابق ملتان ریجن میں بجلی ٹرپ ہونے کے بعد پورے ملک کا پاور سسٹم متاثر ہوا۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں صبح ساڑھے سات بجے کے قریب بجلی بند ہوئی، جبکہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑے اور چھوٹے تمام شہر بجلی سے محروم ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق شمالی اور جنوبی مین لائنوں میں بیک وقت فالٹ آیا۔کراچی کے حوالے سے کیسکو چیف نے بتایا کہ گڈو اور ڈی جی خان سے آنے والی ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ ہونے کے باعث پورا بلوچستان بجلی سے محروم ہو گیا۔ فنی خرابی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
کراچی میں گلستان جوہر، گلشن جمال، راشد منہاس روڈ، رونگی، ملیر، قیوم آباد، اولڈ سٹی ایریا اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ اسی طرح بلوچستان کے تمام اضلاع میں بھی بجلی بند ہو گئی۔ کیسکو حکام کے مطابق گڈو سے کوئٹہ آنے والی دونوں ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جس سے صوبے کے بڑے حصے میں بجلی متاثر ہوئی۔فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرہ، سرگودھا، شور کوٹ، پیر محل اور دیگر شہروں میں بھی بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق صبح 7 بج کر 34 منٹ پر نیشنل گرڈ کی سسٹم فریکوئنسی کم ہوئی جس کے باعث ملک گیر بریک ڈاؤن ہوا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گڈو، جامشورو اور مظفرگڑھ کے پاور پلانٹس بند تھے جبکہ تربیلا، منگلا، بلوکی اور حویلی شاہ بہادر میں محدود بجلی پیدا ہو رہی تھی۔ سسٹم کو بچانے کے لیے این پی سی کا فیوز بند کیا گیا، جس کے بعد کراچی، جنوبی پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بجلی منقطع کر دی گئی۔لیسکو، گیپکو اور آئیسکو ریجنز میں بجلی مکمل طور پر بند رہی جبکہ این ٹی ڈی سی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے بحالی کا کام شروع کر دیا۔ ترجمان آئیسکو کے مطابق اسلام آباد کے 117 گرڈ اسٹیشنز سے بجلی کی فراہمی معطل رہی اور ریجن کنٹرول سینٹر کی جانب سے فوری طور پر واضح وجہ سامنے نہیں آ سکی۔
ذرائع نیشنل پاور کنٹرول کا کہنا ہے کہ فالٹ کے باعث پورا سسٹم بیٹھ گیا تھا اور بجلی کی مکمل بحالی میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔دوسری جانب ذرائع نے بریک ڈاؤن کی وجہ بجلی کی پیداوار میں شدید کمی قرار دی۔ بتایا گیا کہ بجلی کی پیداوار 7 ہزار میگاواٹ سے بھی کم تھی جبکہ شارٹ فال 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گیا۔ پن بجلی کی پیداوار میں 90 فیصد اور تھرمل بجلی کی پیداوار میں 70 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ذرائع کے مطابق 12 سے زائد پاور پلانٹس فنی خرابیوں کے باعث بند تھے، نیلم جہلم منصوبہ گزشتہ آٹھ ماہ سے بند پڑا تھا جبکہ نندی پور، حویلی بہادر شاہ اور بھکی پاور پلانٹس محدود صلاحیت پر کام کر رہے تھے۔ ایندھن کی کمی اور فریکوئنسی میں کمی کے باعث شمال اور جنوب کے پاور سسٹمز میں عدم توازن پیدا ہوا، جس سے ملک گیر بریک ڈاؤن ہوا۔حکام کے مطابق بجلی کی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور سسٹم کو مرحلہ وار معمول پر لایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں :نیپرا نے بجلی کا نیا بنیادی ٹیرف جاری کر دیا، مختلف صارفین کے لیے الگ الگ نرخ مقرر،جا نئے تفصیل















