اسلام آباد ( اے بی این نیوز )سینئر سیاستدان فواد چودھری نےکہا ہے کہ ملک اس وقت صحیح طریقے سے نہیں چل رہا اور سیاسی درجہ حرارت حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اہم اور فیصلہ ساز کلاس اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے جبکہ عام لوگ بھی شدید مایوسی کا شکار ہیں۔فواد چودھری نے کہا کہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ عوام کا اعتماد مجروح ہو چکا ہے اور اس ماحول میں سیاسی استحکام سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی درجہ حرارت فوری طور پر کم نہیں ہو سکتا، اس کے لیے وقت درکار ہوگا اور تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کی جانب سے اس معاملے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم پی ٹی آئی کے کئی اہم رہنما سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے حق میں ہیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے اندر بھی ایسے دوست موجود ہیں جو بات چیت اور سیاسی استحکام کے حامی ہیں۔فواد چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سینئر قیادت خود ہم سے رابطہ کر کے اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں آگے بڑھنے کا یہی واحد راستہ ہے۔ پی ٹی آئی کی تمام قیادت بات چیت کے طریقہ کار کی حمایت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات پریس ریلیز قندھار سے آتی ہیں اور پاکستان کی حقیقی صورتحال کی عکاسی نہیں کرتیں، جب سلمان راجہ اور دیگر رہنما پاکستان آئیں گے تو زمینی حقائق کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ تمام ایم این ایز اور ایم پیز مسلسل رابطے میں ہیں اور اس بات پر متفق ہیں کہ قیادت اور باہر سے آنے والی اطلاعات میں واضح فرق ہے۔ شاہ محمود قریشی نے بھی خط لکھ کر اس بات پر زور دیا ہے کہ اس وقت سیاسی سپورٹ اور ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے۔فواد چودھری نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی تجاویز کو آگے بڑھنے کا واحد مؤثر راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 8 فروری سے پہلے سیاسی درجہ حرارت کم ہونا بے حد ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ آئندہ 10 دن کے اندر عملی اقدامات سامنے آئیں۔وہ اے بی این نیوز کے پروگرام ڈیبیٹ@8 میں گفتگو کر رہے تھے انہوں نے
خبردار کیا کہ اگر پی ٹی آئی سے بامعنی کمیونیکیشن نہ ہوئی تو لانگ مارچ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا اور وفاقی حکومت گورنر راج لگانے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے ممکنہ استعفے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جس سے حکومت کو نقصان جبکہ بانی پی ٹی آئی کے سیاسی قد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
فواد چودھری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے جیل میں رہتے ہوئے دلیری اور بہادری سے اپنی پوزیشن مزید مضبوط کی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سختی کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دے، کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ یا تو انقلاب آتا ہے یا پھر بالآخر مذاکرات کی ضرورت پیش آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عام پاکستانیوں کے لیے اصل مسئلہ یہی ہے کہ سیاسی درجہ حرارت بہت زیادہ ہو چکا ہے۔ کسی تیسرے یا چوتھے فریق کو شامل کرنا اتنا اہم نہیں جتنا یہ ضروری ہے کہ تینوں بڑے فریق اس بات پر متفق ہوں کہ ماحول کو ٹھنڈا کرنا ناگزیر ہے۔ اگر ایک بھی فریق اس بات کو تسلیم نہ کرے تو معاملات آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔
مزید پڑھیں :ن لیگ میں جدید گورننس اور اپوزیشن سے نمٹنے کا کوئی واضح تصور نہیں ،محمد زبیر















