اہم خبریں

بینک آف پنجاب ،ڈیڑھ ارب سے زائد حصص رکھنے والے چھوٹے سرمایہ کار مستفید، تاریخی کارکردگی پر خراجِ تحسین

کراچی(  اے بی این نیوز    ) پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (PBA) نے ملک کے پورے بینکاری شعبے کو، اور بالخصوص ان سات پاکستانی بینکوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے جو ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کی جانب سے 2025 کے لیے ایشیا پیسیفک کے ٹاپ 15 بینکوں میں شامل ہوئے ہیں۔یہ عالمی اعزاز محض ادارہ جاتی کامیابی نہیں بلکہ عام شہری کی فتح ہے۔ ان سات اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی مجموعی منافع بخش کارکردگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قدر براہِ راست پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ڈیڑھ ارب سے زائد حصص رکھنے والے چھوٹے سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچا رہی ہے، جو درحقیقت اس کامیابی کے اصل مالک ہیں۔
پی بی اے کے چیف ایگزیکٹو اور سیکریٹری جنرل، منیر کمال نے اپنے بیان میں کہا کہ حصص کی بڑی تعداد میں اضافے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس شاندار کارکردگی کے فوائد کیپٹل مارکیٹ کی نچلی سطح تک پہنچ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (UBL) بلند ترین مارکیٹ کیپیٹلائزیشن کے ساتھ صنعت میں قیادت کر رہا ہے اور یہ ثابت کر رہا ہے کہ بڑے بینک بھی وسعت کے ساتھ غیرمعمولی منافع فراہم کر سکتے ہیں۔
درجہ بندی میں سرکاری شعبے کے بینکوں کی تاریخی کارکردگی مؤثر گورننس اور مضبوط انتظامی نگرانی کا ثبوت ہے۔ دی بینک آف پنجاب ایشیا پیسیفک میں مجموعی سرمایہ کاری کے لحاظ سے سرفہرست رہا، جس کے بعد نیشنل بینک آف پاکستان اور بینک آف خیبر شامل ہیں۔ یہ شاندار کامیابی حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مؤثر پالیسی سازی اور نگرانی کا مظہر ہے۔
فہرست میں بینک مکرمہ کی غیرمعمولی بحالی اور عسکری بینک کے ابھار کو بھی نمایاں کیا گیا، جنہوں نے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا۔
اسلامی بینکاری کے شعبے میں فیصل بینک نے منافع کے نئے معیار قائم کیے، جو شریعت کے مطابق بینکاری ماڈل کی مضبوطی کو ظاہر کرتے ہیں۔
منیر کمال نے کہا:”یہ کم ہی ہوتا ہے کہ بینک اس قدر وسیع سطح پر سرمایہ کاروں کے لیے قدر پیدا کریں، اور اس سے بھی زیادہ قابلِ تحسین بات یہ ہے کہ یہ سب حقیقی معیشت پر مثبت اثرات کے ساتھ ممکن ہوا۔”
پی بی اے کے مطابق، بینکاری شعبہ معیشت کی بحالی کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ مالی سال 2025 میں نجی شعبے کو قرضوں میں 1.1 کھرب روپے کا اضافہ ہوا، جو مالی سال 2024 کے 470 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔ یہ اضافہ ورکنگ کیپیٹل اور فکسڈ انویسٹمنٹ دونوں میں مضبوط رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ ترقی جامع نوعیت کی ہے۔ ایس ایم ای قرض لینے والوں کی تعداد میں 57 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دو برسوں میں ایس ایم ایز کو دی جانے والی رقم دوگنی ہو گئی۔ اسی طرح زرعی شعبے میں بھی تاریخی بحالی دیکھنے میں آئی، جہاں قرض لینے والوں کی تعداد 27 لاکھ سے بڑھ کر تقریباً 30 لاکھ ہو گئی، اور ترسیلات 2.58 کھرب روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔ پی بی اے نے اس کامیابی کا سہرا جدید ڈیجیٹل حل جیسے زرخیز-ای کو دیا۔
پی بی اے نے واضح کیا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں نجی شعبے کے قرضوں کے حوالے سے غلط اعداد و شمار پیش کیے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ دسمبر تک نجی شعبے کے قرضوں میں 654 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ پورٹ فولیو میں مجموعی طور پر 6.75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ سب حکومتی قرضوں کے دباؤ کے باوجود ممکن ہوا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بینکاری شعبہ بدستور معیشت کا بنیادی سہارا ہے۔
آخر میں پی بی اے نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی پاکستان کے عوام کے لیے قدر پیدا کرتا رہے گا، چھوٹے سرمایہ کاروں کو مستحکم منافع فراہم کرے گا اور مالی شمولیت کو فروغ دے گا تاکہ ترقی کے فوائد ملک کے ہر حصے تک پہنچ سکیں۔

مزید پڑھیں :ن لیگ میں جدید گورننس اور اپوزیشن سے نمٹنے کا کوئی واضح تصور نہیں ،محمد زبیر

متعلقہ خبریں