اہم خبریں

ن لیگ میں جدید گورننس اور اپوزیشن سے نمٹنے کا کوئی واضح تصور نہیں ،محمد زبیر

اسلام آباد(  اے بی این نیوز      )سینئر رہنما تحریک تحفظ آئین پاکستان محمد زبیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاسی مسائل کے حل کے دو ہی راستے ہیں، یا تو پہلے بات چیت کی جائے یا پھر مزاحمت کے بعد مذاکرات ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ مزاحمت کی سیاست بھی آخرکار بات چیت پر ہی ختم ہوتی ہے اور دنیا میں جنگوں کے بعد بھی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں۔محمد زبیر نے واضح کیا کہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت واحد موثر راستہ ہے اور آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کی بات سننا لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام اس پورے سیاسی نظام میں سب سے زیادہ پس رہے ہیں۔انہوں نے پی ٹی آئی اور بانی کے نام کو ختم کرنے کی کوششوں پر بھی بات کی اور کہا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ شدید اختلافات ہیں، خاص طور پر مسلم لیگ ن کی غیر مشروط حمایت پر۔ پنجاب میں صورتحال مختلف رہی اور وہاں سیاسی انجینئرنگ واضح طور پر دیکھی گئی۔ محمد زبیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے وزرا کا رویہ جمہوری نہیں ہے اور ناصر شاہ اور سعید غنی کے بیانات سیاسی برداشت کی کمی ظاہر کرتے ہیں۔انہوں نے مسلم لیگ ن پر بھی سوالات اٹھائے، کہا کہ پارٹی میں فیصلہ سازی ایک خاندان تک محدود ہے اور نواز شریف ہوں یا شہباز شریف، پارٹی ایک ہی طرز پر چلائی جاتی ہے۔ ن لیگ میں جدید گورننس اور اپوزیشن سے نمٹنے کا کوئی واضح تصور نہیں ہے۔

محمد زبیر نے کہا کہ سیاسی اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا جمہوریت کو نقصان پہنچاتا ہے۔محمد زبیر نے کہا کہ نواز شریف چاہتے تھے کہ وزیراعظم بن کر معاملات درست کریں، اب ن لیگ کے پاس دو ہی راستے ہیں، یا سیاست کی ڈیلیوری یا بہتر گورننس۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں گزشتہ تین سال میں گروتھ تاریخی طور پر کم ترین رہی اور جمہوریت کا اصل سوال 1973 کے آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی ہے۔محمد زبیر نے الیکشن کے نتائج پر بھی بات کی، کہا کہ 2024 کے انتخابات میں لاہور کے نتائج سب کے سامنے ہیں اور فارم 45 حقائق واضح کر دیتا ہے۔ وہ اے بی این نیوز کے پروگرام ڈبیٹ ایٹ ایٹ میں گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کے کیس سمیت کئی سوالات آج بھی موجود ہیں اور یہ سب صورتحال مذاکرات کے عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔سینئر رہنما تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا کہ مذاکرات کا آپشن کبھی ختم نہیں ہونا چاہیے اور سیاسی رویوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سختی کے بجائے سیاسی برداشت ہی مسائل کا حل ہے اور جمہوریت کا تسلسل آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی سے ممکن ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو جمہوری نظام کو تسلیم کرنا ہوگا۔محمد زبیر نے مسلم لیگ ن کے اندر جمہوری سوچ رکھنے والے افراد کی پریشانی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کچھ لوگ خود پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ رویہ جمہوری ہے۔ انہوں نے ریسٹ روم جانے کی اجازت نہ دینا جیسے معاملات کو بھی سوالیہ نشان قرار دیا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف برداشت اور بات چیت کے ذریعے ممکن ہے، سختی سے نہیں۔

مزید پڑھیں :جلسہ ہر صورت ہو گا،سہیل آفریدی ڈٹ گئے،بڑا اعلان کر دیا، جا نئے کیا

متعلقہ خبریں