اہم خبریں

سولر انرجی کا مستقبل کیا،اہم پیش رفت سامنے آگئی ،جا نئے کیا

اسلام آباد (  اے بی این نیوز     ) ملک میں سولر انرجی کے استعمال سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمسی توانائی اور نیٹ میٹرنگ کا رجحان تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے۔ نومبر 2025 کے دوران نیٹ میٹرنگ کا مجموعی بجلی پیداوار میں حصہ سالانہ بنیاد پر 127 بیسس پوائنٹس بڑھ گیا، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ صارفین قومی گرڈ پر انحصار کم کر کے متبادل توانائی کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔ نومبر 2025 میں ملک کی مجموعی بجلی پیداوار سال بہ سال بنیاد پر معمولی طور پر 0.2 فیصد مستحکم رہی۔ تاہم اس ڈیٹا میں کے-الیکٹرک کے صارفین شامل نہیں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مجموعی پیداوار میں استحکام کے باوجود نیٹ میٹرنگ کے بڑھتے ہوئے حصے سے توانائی کے شعبے میں ایک واضح ساختی تبدیلی کے آثار نظر آ رہے ہیں، جہاں سولر پاور ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھر رہی ہے۔

ماہانہ بنیاد پر صورتحال قدرے مختلف رہی۔ اکتوبر کے مقابلے میں نومبر 2025 کے دوران شمسی نیٹ میٹرنگ یونٹس میں 10.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس کمی کی ممکنہ وجوہات میں موسمی حالات، دھوپ کے کم اوقات اور بعض علاقوں میں بجلی کی طلب میں عارضی کمی شامل ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ طویل المدتی رجحان شمسی توانائی کے حق میں ہی جا رہا ہے۔توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی بجلی قیمتیں، لوڈشیڈنگ کے خدشات اور قابل تجدید توانائی کے لیے حکومتی مراعات عوام کو سولر پینل سسٹمز اپنانے پر آمادہ کر رہی ہیں۔ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے صارفین اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ اضافی بجلی قومی گرڈ میں شامل کر کے مالی فائدہ بھی حاصل کر رہے ہیں، جو اس نظام کو مزید پرکشش بنا رہا ہے۔

دوسری جانب نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق کیلنڈر ایئر 2026 کے دوران ملک میں بجلی کی مجموعی طلب میں سالانہ بنیاد پر تقریباً ایک فیصد اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سولر انرجی اور نیٹ میٹرنگ کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ برسوں میں قومی گرڈ پر دباؤ میں کمی اور توانائی کے اخراجات میں نسبتی استحکام دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں :سعودی عرب سے خبر غم، اہم شخصیت انتقال کر گئی، جا نئےکون

متعلقہ خبریں