اہم خبریں

پنجاب میں جعلی مقدمات کے خاتمے کیلئے تاریخی قدم اٹھا لیا،جا نئے کیا

لاہور ( اے بی این نیوز    )پنجاب میں جعلی مقدمات کے خاتمے کیلئے ایک اہم اور تاریخی قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی ہدایات پر جعلی مقدمات کی روک تھام کے منصوبے پر باضابطہ عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد عدالتی نظام کو شفاف، مؤثر اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت پنجاب بھر کی ضلعی عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے سے قبل بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد درخواست گزار، مدعا علیہان اور دیگر تمام فریقین کو مقدمہ دائر کرنے یا عدالتی کارروائی کا حصہ بننے کیلئے بائیو میٹرک تصدیق کروانا ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندی صرف درخواست گزار تک محدود نہیں ہوگی بلکہ ضمانتی بانڈ جمع کرانے والے افراد اور عدالت میں بیانات ریکارڈ کروانے والوں پر بھی بائیو میٹرک تصدیق کا اطلاق کیا جائے گا۔ اس اقدام سے جعلی شناخت، فرضی فریقین اور جھوٹے مقدمات کی حوصلہ شکنی ممکن ہو سکے گی۔

عدالتی ذرائع کے مطابق بائیو میٹرک تصدیق کا یہ نیا نظام 20 جنوری 2026 سے باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ مقدمات کے غلط استعمال اور عدالتی وقت کے ضیاع میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
مزید پڑھیں :سپر لیگ ،ٹیموں کی نیلامی، پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری ہو رہی ہے، امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر

متعلقہ خبریں