اہم خبریں

حکومت مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ نظر نہیں آ رہی،فیصل چودھری

اسلام آباد (اے بی این نیوز        )پی ٹی آئی رہنما فیصل چودھری نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ نظر نہیں آ رہی اور سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے بجائے خود ہی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل صرف بات چیت میں ہے، ٹکراؤ میں نہیں، اور تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔ فیصل چودھری کے مطابق سپیکر آفس مذاکرات کیلئے ایک موزوں اور مؤثر پلیٹ فارم ہے، مگر مذاکراتی عمل کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں اصل مسئلہ سیاسی عدم استحکام ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے بغیر پارلیمنٹ مکمل نہیں ہوتی اور اپوزیشن سے بات کیے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ فیصل چودھری نے یہ بھی کہا کہ حکومت اقتدار میں ہے، اس لیے سیاسی ماحول بنانا اور کشیدگی کم کرنا اس کی ذمہ داری ہے، ورنہ لڑائی کی سیاست کا نتیجہ صرف بحران کی صورت میں نکلے گا۔وہ اے بی این نیوز کے پروگرام سوال سے آگے میں گفتگو کر رہے تھے

دوسری جانب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل نے حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ تمام قیدی سیاسی انتقام کا نشانہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین قیدیوں کی رہائی کا معاملہ عدالتوں میں زیر سماعت ہے اور کوئی ایسا کیس نہیں جو قانون سے ہٹ کر ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں ممکن ہوگا، رہائی دی جائے گی۔

رانا احسان افضل کے مطابق پارلیمانی طریقہ کار کے تحت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطہ جاری ہے اور حکومت باتوں کے بجائے عملدرآمد پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کیلئے حکومت کے دروازے کبھی بند نہیں رہے، تاہم اپوزیشن کو بھی مثبت سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی مکالمہ کسی ایک جماعت کے فائدے کیلئے نہیں بلکہ ملک کو آگے بڑھانے کیلئے ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا کام نظام کو مفلوج کرنا نہیں بلکہ اصلاح کی بات کرنا ہے، جبکہ سیاسی اور کریمنل معاملات کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔ رانا احسان افضل نے زور دیا کہ پارلیمنٹ سے باہر نکلنے کے بجائے پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر بات چیت ہونی چاہیے، کیونکہ ملک کے مفاد میں سنجیدہ مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

مزید پڑھیں :عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حوالے سے اچھی خبر،جا نئے کیا

متعلقہ خبریں