اہم خبریں

سیاسی عدم برداشت آج کھل کر سامنے آ چکی ہے،شفیع جان

اسلام آباد (اے بی این نیوز        ) شفیع جان نے کہا کہ جب بھی ہماری جو تحریک میٹم پکڑتی ہے تو حکومت کو مذاکرات یاد آجاتے ہیں ہم بالکل سیریس سے مذاکرات کے بارے میں سیاسی لوگ ہیں پی ٹی آئی سیاسی پارٹی ہے ہم بات چیت پر یقین کرتے ہیں اور بات چیت سے ہی بڑے مسئلے حل ہوتے ہیں آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی دو سے تین دفعہ بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کو آگے بڑھایا 4 اکتوبر اور 25 نومبر کے ٹائم پہ جو ہوا وہ بھی آپ کے سامنے ہے لیکن وہی ڈیڈ لاک برقرار رہاہے.

اب کی جو بات ہے ہم نے فینسیپلی محمود خان اچکزئی کے ساتھ کچھ پرنسپلز پہ ہم تیار ہو چکے ہیں اگر ان نکات پہ حکومت بات کرنے کو تیار ہے تو محمود خان اچکزئی جس کو یہ ذمہ داری ملی ہوئی ہے عمران خان کی طرف سے وہ اس بات چیت کو آگے بڑھائیں گے انہوں‌نے کہا کہ اڈیالہ کےباہر میں کئی دنوں سے یہ بات کر رہا تھا کہ ہم غیر مشروط مذاکرات نہیں کریں گے اچھا تو آگے سے یہ سوال ہوتا تھا کہ اپ ایک بات کہتے ہیں بیرسٹر گوہر سے دوسری بات کہہ رہے ہیں محمود خان اچکزئی تیسری بات کر رہے ہیں.

معاون خصوصی اطلاعات نے کہا کہ جو بات میں کر رہا تھا اس کو محمود خان اچکزئی نے سیکنڈ کیا ہے انہوں یہ بڑا واضح کہا ہے کہ8 تاریخ کو جو مینڈیٹ پہ ڈاکہ ڈالا گیا ہے جس طریقے سے دن دہاڑے لوگوں کو مینڈیٹ کو چرایا گیا ہے اگر اس پہ واپسی پر بات کرنے کو حکومت تیار ہے تو ان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک عمران خان تک رسائی کا جو مسئلہ ہے وہ بھی اس مذاکرات کا حصہ ہوں گے کہ عمران خان تک رسائی ہمارے ممکن بنائی جائے اس کی فیملی کی پولیٹیکل لیڈرشپ کی ان کی وکلا کی اور اس کے ساتھ ساتھ فریش الیکشن کی طرف جایا جائے نئےای سی پی کے انڈر تو یہ ہماری بنیادی نکات ہیں اگر حکومت ان بنیادی نکات میں ہمارے ساتھ بات کرنے کو تیار ہے.

شفیع جان نےکہا کہ جہاں تک رانا ثنا اللہ کی بات ہے پانچ بڑوں کی رانا ثنا اللہ کی ایک اور سٹیٹمنٹ بھی آ چکی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ اگر8 فروری کی جو کال ہے وہ واپس نہیں لی گئی تو 9مئی کےکیسز کھول دیئے جائیں گے تو یہ ماحول لگا رہا ہے کہ9مئی کا ایک فاسٹ فلیگ آپریشن تھا پاکستان تحریک انصاف کے خلاف اور اس کو پاکستان تحریک کے خلاف استعمال کیا گیا اور استعمال ہو رہا ہے جہاں تک پانچ بڑوں کی بات ہے تو میں نے پہلے بھی یہ بات کی کہ جو شہباز شریف ہے نواز شریف ہے یا زرداری ہیں کہ فرمانبردار بچے ہیں ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہے ان کو بھرتی کیا گیا ہے ان کو پٹایا گیا ہے کہ کوئی سے نہیں وہ ان کو کہیں گے اٹھ جائیں تو اٹھ جائیں گے وہ ان کو کہیں گے بیٹھ جائیں تو یہ لیٹ جائیں گے تو ان کی کوئی وقت نہیں ہے لیڈر ایک ہی ہے عمران خان اور وہ آپ سب جانتے ہیں کہ اسٹیم پاکستان کی سیاست کا مرکز جو ہے وہ اڈیالہ ہے عمران خان کے ارد گردپورے پاکستان کی سیاست پھیلی ہوئی ہے ۔

شفیع جان نےکہا کہ مریم نواز پر تین سال کی سرمایہ کاری کے بعد بھی ہمیں اقتدار دیا گیا، اور وہ بیانیہ جو بانی نے پنجاب میں چلایا تھا، ہم نے تہس نہس کر دیا۔ ان کے مطابق اپوزیشن کے پاس کوئی ویژن نہیں، صرف ڈاکے اور کرپشن ہے، اور موجودہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے پالیسی شفٹ ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لاہور دورے کے دوران پہلی بار کرفیو اور مارکیٹیں بند کرائی گئیں۔ شفیع جان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے مینڈیٹ چرایا، مگر پھر بھی انہیں اقتدار دیا گیا، اور مریم نواز کا امیج اور بیانیہ صرف 72 گھنٹوں میں بدل دیا گیا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سہیل آفریدی اور دیگر لیڈرز پنجاب میں عوام کے دلوں پر راج کر رہے ہیں اور اپوزیشن کو چیلنج کر رہے ہیں۔

شفیع جان نے زور دیا کہ عوام کو اصل صورتحال دکھانا ضروری ہے اور پوری تصویر سامنے لانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق دونوں بڑی جماعتیں بار بار اپنی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھ رہی ہیں، ن لیگ میں عدم برداشت کی طاقت ختم ہو گئی ہے، اور سیاسی طور پر یہ جماعتیں ختم ہو چکی ہیں۔

انہوں نے اسمبلی سے باہر نکلنے کے فیصلے پر کہا کہ یہ میری ذاتی رائے میں درست نہیں تھا کیونکہ میدان خالی چھوڑ دینا مقابلہ مشکل کر دیتا ہے۔ شفیع جان نے یہ بھی کہا کہ اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہماری حکومتیں رہتیں تو موجودہ حالات نہ بنتے۔وہ اے بی این کے پروگرام ’’تجزیہ‘‘ میں گفتگو کر رہے تھے

انہوں نے پی ٹی آئی کے ساتھ ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کا ازالہ کریں گے، اور بائیکاٹ کے باوجود ضمنی انتخابات ضروری ہیں۔ سیاسی عدم برداشت آج کھل کر سامنے آ چکی ہے۔

شفیع جان نے کراچی میں مزار قائد پر جلسے کے لیے این او سی کے معاملے پر بھی بات کی اور کہا کہ اگر پیپلزپارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے تو جلسے کی اجازت دی جائے، کیونکہ جلسہ پرامن ہوگا، سڑکیں بند نہیں ہوں گی اور ٹریفک متاثر نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں بھی پیپلز پارٹی نے ہمارا مینڈٹ چرایا ہوا ہے۔

مزید پڑھیں :محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے ذریعے مذاکرات چاہتے ہیں،خواجہ آصف

متعلقہ خبریں