اسلام آباد (اے بی این نیوز )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں اور سیاسی مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے ذریعے مذاکرات چاہتے ہیں، تاہم پی ٹی آئی خود مذاکرات کیلئے آگے نہیں آنا چاہتی جو ان کے بقول بددیانتی کے مترادف ہے۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اور اس کے اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کو مذاکراتی عمل میں شامل ہونا چاہیے، جبکہ اصل معاملات وہی طے کر سکتے ہیں جو بانی پی ٹی آئی سے براہ راست بات کریں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہی ہے اور دہشت گردی کے معاملے پر اس کا رویہ مناسب نہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کے پی حکومت دہشت گردوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی اور کسی بھی آپریشن کا حصہ بننے سے گریز کر رہی ہے۔ اگر خیبر پختونخوا کی حکومت فوج کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو آپریشن کے مقاصد جلد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ یہ عناصر دہشت گردوں کے اتحادی ہیں، خود بھی مسلح جدوجہد کر چکے ہیں اور کئی بار اسلام آباد پر حملہ آور ہوئے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت کو دہشت گردوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے اور یہ کہنا کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے، دراصل دہشت گردوں کی حمایت کے مترادف ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ فوج براہ راست دہشت گردی کا نشانہ بن رہی ہے اور شہدا کے جنازوں میں بھی شرکت کرنا پڑ رہی ہے، ایسے میں سیاسی مصلحتوں کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہم سب کا ہے اور اس پر کسی ایک جماعت یا طبقے کی اجارہ داری نہیں۔ آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے لیکن ذاتی طور پر وہ اس کے استعمال پر تحفظات رکھتے ہیں۔ اسی طرح وہ کسی سیاسی جماعت پر پابندی کے بھی حق میں نہیں ہیں۔
وزیر دفاع کے مطابق قیام امن کیلئے حکومت نے براہ راست کابل حکومت سے بھی بات کی اور ہمیشہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے۔ خطے میں امن کے قیام کیلئے ہر ممکن کوشش کی گئی ہے اور آج بھی اگر دوست ممالک ثالثی کا کردار ادا کریں تو حکومت مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اندر سے ہی آوازیں آئیں کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے تو پھر دہشت گردی کے مسئلے کا حل آخر کیا رہ جاتا ہے؟
مزید پڑھیں :چین اور روس صرف امریکہ سے ڈڑتے ہیں،ٹرمپ















