اسلام آباد (اے بی این نیوز )اسابق وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات کے ذمہ دار ہم سب ہیں اور اگر اس حقیقت کو تسلیم نہ کیا گیا تو مسائل مزید سنگین ہوتے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک طبقے پر الزام ڈالنے کے بجائے اجتماعی ذمہ داری قبول کرنا ہی اصلاح کی پہلی شرط ہے۔شاہد خاقان عباسی نے زور دیا کہ جس ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہو وہاں معیشت کبھی مستحکم نہیں رہ سکتی۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری، روزگار اور ترقی سب کا انحصار آئین اور قانون کی بالادستی پر ہوتا ہے، اور اس کے بغیر معاشی تباہی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کا حل تصادم میں نہیں بلکہ مکالمے میں ہے۔ مل بیٹھ کر بات کیے بغیر ملک کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں، فوج، عدلیہ اور تاجر برادری سب کو ایک میز پر بیٹھنا ہوگا تاکہ قومی سمت کا تعین کیا جا سکے۔
سابق وزیرِاعظم کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ساٹھ برس سے ایک ہائبرڈ نظام چل رہا ہے جس نے سیاسی ارتقا کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے ناکامی کی بنیادی وجہ کمزور قیادت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط اور بااصول قیادت کے بغیر کوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔
شاہد خاقان عباسی نے آئین کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین کو توڑ مروڑ کر حالات کو خراب کیا گیا، جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ ان کے مطابق ملک کے مسائل کو سنجیدگی سے سمجھنے اور حقیقت پسندانہ فیصلے کرنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے آخر میں واضح کیا کہ پاکستان کو درپیش سیاسی، معاشی اور آئینی بحران کا واحد حل بامعنی مکالمہ ہے، کیونکہ تصادم صرف مزید انتشار کو جنم دیتا ہے جبکہ بات چیت ہی پائیدار راستہ فراہم کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں :ویمنزٹی20 ورلڈ کپ،شیڈول جاری















