اہم خبریں

پنجاب کونسل آف آرٹس کے گریڈ 19 کے افسر، مصنف، گائک اور شاعر غلام عباس انتقال کر گئے۔

لاہور (اے بی این نیوز) پنجاب کونسل آف آرٹس کے گریڈ 19 کے افسر، مصنف، گائک اور شاعر غلام عباس گردوں کے عارضے میں مبتلا رہنے کے بعد آج انتقال کر گئے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ اپنی وفات سے صرف ایک دن قبل تک سرکاری فرائض انجام دے رہے تھے، جو ان کی فرض شناسی اور کام سے غیر معمولی لگاؤ کا واضح ثبوت ہے۔

غلام عباس نہ صرف ایک ذمہ دار افسر تھے بلکہ علمی و ادبی حلقوں میں بھی ایک معتبر نام سمجھے جاتے تھے۔ وہ چار بچوں کے واحد کفیل تھے، جو اب والد کے انتقال کے بعد شدید معاشی بے یقینی کا شکار ہو چکے ہیں۔

سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جس ادارے میں غلام عباس خدمات انجام دے رہے تھے، وہاں پنشن کا کوئی باقاعدہ نظام موجود ہی نہیں۔ نتیجتاً، ایک پوری زندگی ریاست کی خدمت کرنے والا افسر انتقال کے بعد اپنے اہلِ خانہ کو کسی قسم کے مالی تحفظ کے بغیر چھوڑ گیا۔

یہ واقعہ حکومتی نظام، بالخصوص سرکاری اداروں میں ملازمین کی فلاح و بہبود کے دعوؤں پر سنگین سوالیہ نشان ہے۔ کیا ایک گریڈ 19 افسر بھی اپنی بیماری میں علاج اور وفات کے بعد اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ریاست سے کسی تحفظ کا حق دار نہیں؟ کیا پنشن جیسے بنیادی حق کو بھی ادارہ جاتی بدنظمی اور غفلت کی نذر کر دیا گیا ہے؟

غلام عباس کی وفات صرف ایک شخص کا انتقال نہیں بلکہ یہ اس نظام کی ناکامی کی علامت ہے جو ملازمین سے آخری سانس تک کام تو لیتا ہے، مگر ان کے اہلِ خانہ کی ذمہ داری لینے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پنجاب اور متعلقہ ادارے نہ صرف غلام عباس کے اہلِ خانہ کے لیے فوری مالی امداد کا اعلان کریں بلکہ ایسے اداروں میں پنشن اور سوشل سیکیورٹی کے مؤثر نظام کو یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی سرکاری ملازم مرنے کے بعد اپنے بچوں کو بے سہارا چھوڑنے پر مجبور نہ ہو۔

مزید پڑھیں۔نگران دور میں بھرتی 645 ملازمین کو فارغ کرنیکا حکم

متعلقہ خبریں