اسلام آباد(رضوان عباسی )آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کردہ 9 رکنی آئینی و قانونی کمیٹی کا پہلا طے شدہ اجلاس بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہوگیا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے نمائندوں نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا، جس کے باعث مذاکراتی عمل رک گیا۔
کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی حکومت، آزاد کشمیر حکومت اور دیگر نامزد ارکان شریک ہوئے، تاہم ایکشن کمیٹی کے تمام نمائندے غیر حاضر رہے۔ اجلاس میں وزیر قانون آزاد کشمیر میاں عبدالوحید، وزارتِ قانون و انصاف کے ایڈیشنل سیکرٹری، قانونی مشیر، کنسلٹنٹ اور پیپلز پارٹی لائرز ونگ کے جنرل سیکرٹری راجہ اعجاز احمد ایڈووکیٹ نے شرکت کی۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے طاہر انور ایڈووکیٹ پہلے ہی ایکشن کمیٹی کے اعتراض پر کمیٹی رکنیت سے دستبردار ہو چکے ہیں۔
ایکشن کمیٹی کے نامزد راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ، سردار ارباب ایڈووکیٹ اور سعد انصاری ایڈووکیٹ بھی اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ سردار ارباب اور سعد انصاری کا تعلق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مختلف دھڑوں سے ہے۔
اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون آزاد کشمیر میاں عبدالوحید نے بتایا کہ یہ کمیٹی وفاقی حکومت، آزاد کشمیر حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے معاہدے کی روشنی میں قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد مہاجرین نشستوں کے مستقبل سے متعلق اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ “ہم وقت پر اجلاس میں پہنچے، تمام وفاقی نمائندے بھی موجود تھے، مگر افسوس کہ ایکشن کمیٹی کے ارکان شریک نہ ہو سکے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ مہاجرین نشستوں کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے سے متعلق فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے، تاہم یہ طے ہے کہ جب تک یہ نشستیں موجود ہیں، ان ممبران کو کابینہ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
میاں عبدالوحید نے کہا کہ “ایوان کا کوئی بھی رکن اسمبلی کمیٹیوں کا حصہ بن سکتا ہے، یہ اختیار حکومت کا نہیں، ایوان کا ہے۔ مہاجرین ممبران اپنے آئینی حق کے تحت ایوان کا حصہ ہیں، لہٰذا حتمی فیصلہ ہونے تک ان کے حقوق برقرار ہیں۔”
وزیر قانون نے مزید کہا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد تمام معاملات کو مکمل طور پر ٹریک پر آنے میں وقت لگا، مگر ایکشن کمیٹی کے 99 مطالبات پہلے ہی پورے کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ “تاخیر کوئی غیر معمولی بات نہیں، کمیٹی بن چکی ہے، فیصلہ یہیں سے ہوگا۔”میاں عبدالوحید نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ مہاجرین ممبران کو وزارتی عہدے دیے گئے۔“معاہدے کے مطابق انہیں وزیر نہیں بنایا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی اقدام کیا گیا جو معاہدے کی خلاف ورزی ہو۔”انہوں نے ایکشن کمیٹی سے دوبارہ مذاکرات کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین نشستوں کے مستقبل اور دیگر متعلقہ امور بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق کمیٹی کے اگلے اجلاس کا انعقاد ایکشن کمیٹی کی شرکت سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں :ڈرائیونگ ٹیسٹ کیلئے نیا قانون’’ فیل فارایور‘‘ متعارف















