اسلام آباد ( اے بی این نیوز )پی ٹی آئی کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ شدید دباؤ، پابندیوں اور مشکلات کے باوجود تحریک انصاف سیاسی میدان میں متحرک رہی اور اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ثابت ہوا کہ مشکل وقت میں پی ٹی آئی بکھر جائے گی یا یہ صرف ’’برگر بچوں کی جماعت‘‘ ہے۔شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پی ٹی آئی نے جبر اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے مزاحمت کی مثال قائم کی اور ایک میچور، منظم سیاسی قوت کے طور پر ابھری۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ کارکنوں کو واضح نئی سمت نہ ملنے کے باعث کچھ عرصے تک کنفیوژن ضرور رہا۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتی ریلیف حاصل کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے، اس کے باوجود تحریک انصاف نے سیاسی جدوجہد ترک نہیں کی۔ ان کے مطابق پارٹی کے اندر اختلافات اور فرسٹریشن ایک فطری عمل ہے۔شیخ وقاص اکرم نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا لاہور کا دورہ پارٹی مشاورت سے تھا اور سہیل آفریدی کے دورے کو ذاتی قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی پنجاب قیادت اور انفارمیشن ونگ اس دورے سے باخبر تھے۔
مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ بانی تحریک انصاف کی جانب سے تاحال کوئی نئی واضح ہدایت موصول نہیں ہوئی، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پارٹی میں ابہام ہے۔ ملاقاتوں میں تعطل کے باعث پیغام رسانی متاثر ضرور ہوئی، لیکن بانی کا پیغام بالکل واضح ہے کہ مذاکرات بغیر کسی پیشگی شرط کے ہوں گے اور کسی دباؤ میں بات چیت نہیں کی جائے گی۔اے بی این نیوز کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ جب عدالتوں، پارلیمنٹ اور میڈیا میں شنوائی نہ ملے اور تمام دروازے بند کر دیے جائیں تو سٹریٹ موومنٹ آخری آپشن بن جاتی ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف 2026 میں بانی کی رہائی کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کرے گی، جو مذاکرات یا اسٹریٹ موومنٹ دونوں راستوں سے ممکن ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج کی ذمہ داری بانی تحریک انصاف نے سہیل آفریدی کو باضابطہ طور پر سونپی ہے اور پی ٹی آئی میں احتجاج اور سیاسی سرگرمیاں ایک منظم حکمت عملی کے تحت ہوں گی۔ شیخ وقاص اکرم کے مطابق سندھ ہو یا پنجاب، سیاسی سرگرمیوں کی اجازت جمہوریت کا بنیادی اصول ہے اور پی ٹی آئی کسی صوبے میں بدنظمی نہیں چاہتی بلکہ پرامن سیاست پر یقین رکھتی ہے۔
کستان کی تاریخ میں پی ٹی آئی نے فسطائیت اور جبر کا مقابلہ کیا ہے اورتاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ اپوزیشن پارٹی کوالیکشن نہ لڑنے دیا ہواس کے باوجودجو پچھلا سال گزر چکا ہے اس میں پارٹی کے لیے تمام صوبوں میں لوگ احتجاج کے لیے باہر نکلے ،جلسے اور دھرنے بھی دیتے رہے،پی ٹی آئی کو برگر پارٹی بھی کہتے رہےاوریہ ان کو ایک تھپکا لگائیں گے تو وہ نظر نہیں آئیں گے ،پاکستان تحریک انصاف ایک سنجیدہ پارٹی ہے اورتگڑی فورس کے طور پر کھڑی رہی ہے ۔
اے بی این نیوز کے پروگرام ’’ سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالات سخت سے سخت ہوتے جا رہے ہیں اور ہم اہداف سے ہٹ نہیں رہے بلکہ ہمیں دور کیا جارہا ہے ،27,26ویں ترمیم بھی ہو گئی ،جیسے جیسے جدوجہد بڑھتی رہی ویسے ویسے اہداف تھے ان تک پہنچنے کے حوالے سے چیزیں سخت سے سخت کر دی گئیں جب ایک پارٹی کا قائد اندر ہو اور باہر اس کو توڑنے کی ہزاروں کوششیں کی جا رہی ہوں ہر وقت اور ہر طریقے سے پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہوں ۔
سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی نے کہا کہ رہائی سے احتجاج ،اور ملاقاے منگل تک پہنچ جائے تومایوسی اور ذہنی دبائو پیدا ہوجاتا ہے جو ہر انسان کو ہوتی ہے چیئرمین پی ٹی آئی نے جو بات کی ہے اس میں بڑا زور دے کر کہا کہ بانی عمران خان کی ہدایت پر ہی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو تمام ذمہ داری دی گئیں ہیں اور وہی اس کو ڈیل کرینگے اس دورے کا پلان پنجاب کی آرگنائزیشن کیساتھ طے تھا جوانفارمیشن سیکرٹری کو پتا تھا اس دورے میں ان کیساتھ وہاں ہتک آمیز رویہ اپنایا گیاتو اس میں پنجاب سے ردعمل آتے رہے چیف آرگنائزر رابطے میں رہی اور سیکرٹری جنرل ساتھ رہے یہی تو پارٹی ہوتی ہے ۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ 9مئی سے لے کر اس جدوجہد میںہمیں کامیابی ملے 2026 میں عمران خان جیل سے رہا ہوں یہی کوشش ہو گی ۔پارلیمنٹ اور سینیٹ میں شنوائی نہیں ہوتی، ٹی وی پر ہماری پریس کانفرنسز نہیں دیکھائی جاتی تو ہمیں سوشل میڈیا کاسہارا لینا پڑتا ہے جس پر آخر میں پر امن احتجاج ہی ہوتا ہے اور اس کے حوالے پاکستان تحریک انصاف کو حق حاصل ہے اسی کے ذریعے ہی عمران خان کو جیل سے باہر نکال سکیں گے ، احتجاج کے لیے باہر نکلنے سے حکومت پر پریشر بڑھے گااور عمران خان کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے جو توقعات ہیں وہ پر پورا اتریں گے ۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہدایت پر سہیل آفریدی ہی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے کیونکہ وہ کے پی کے کی حکومت میں ہیں انہوں نے ہی پی ٹی آئی کو آگے لے کر چلنا ہے اور حکومت کیساتھ مشروط مذاکرات نہیں ہونگے، 2026 میں اپنی تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے جدوجہد جاری رکھیں گے اور عمران خان جیل سے باہر آئیں گے ،ہمارا جمہوری حق ہے کہ ہر صوبے میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت اور آزادی ہونی چاہیے یہ ملک سب کا ہے خواہ وہ پنجابی ہویا پختون ہو، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کراچی جائیں گے ۔
مزید پڑھیں :5 بڑے ہیں ان کے مابین رابطہ ہوا تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں ،را ثنا اللہ کا انکشاف















