اہم خبریں

عمران خان نے اپنی طاقت کے نشے میں مخالفین کے خلاف سخت رویہ اپنایا،بلاول

اسلام آباد (اے بی این نیوز    )چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ گورنر راج کے حوالے سے پی ٹی آئی اور ن لیگ کے درمیان کسی بھی سطح پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مسلسل ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جن سے وفاق کو سخت اقدامات پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں فریال تالپور اور مریم نواز کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ بانی پی ٹی آئی نے اپنی طاقت کے نشے میں مخالفین کے خلاف سخت رویہ اپنایا، لوگوں کو جیل بھیجا اور دھمکی آمیز طرز حکمرانی اختیار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج بانی پی ٹی آئی اسی طرز سیاست کے مکافاتِ عمل سے گزر رہے ہیں۔ فیض حمید کے خلاف فیصلے کو انہوں نے تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض آغاز ہے، اس کیس میں مزید تحقیقات اور ٹرائل ہونا ابھی باقی ہے۔ پاکستان کی سیاست کو اداروں کے دباؤ اور غیر جمہوری عناصر کی مداخلت سے پاک کرنا وقت کی ضرورت ہے، تاکہ نظام شفاف اور مستحکم ہو سکے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو موجودہ حالات میں ذمہ دارانہ سیاسی رویہ اپنانا چاہیے، کیونکہ ماضی میں ان کے دور حکومت میں مخالفین کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے اور سیاسی انتقام کی فضا کو فروغ دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے وفاق نے پیپلز پارٹی سے کوئی مشاورت نہیں کی، البتہ یہ ایک آئینی راستہ ضرور ہے۔

بلاول بھٹو کے مطابق پی ٹی آئی ایسی صورتحال پیدا کر رہی ہے جو وفاق کو سخت فیصلوں کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بانی پی ٹی آئی نے بطور وزیر اعظم سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا، دھمکیاں دیں اور متعدد اہم شخصیات کو جیل بھیجا۔ ان کے مطابق آج وہی طرز عمل بانی پی ٹی آئی کے خود کے سامنے بطور مکافات عمل کھڑا ہے۔

انہوں نے فیض حمید کو سزا سنائے جانے کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں مزید تحقیقات اور ٹرائل آگے بڑھیں گے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی مضبوطی مضبوط اداروں سے جڑی ہے اور حکومت کو فوری طور پر معاشی اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی، کیونکہ عوامی مسائل کے حل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے سیاسی استحکام بنیادی شرط ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی پیپلز پارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اسی لیے تمام سیاسی قوتوں کو قومی مفاد میں ایک ساتھ چلنا ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی انتخابی مہم کے دوران عوامی رابطہ مہم مزید تیز کرے گی۔

بلاول بھٹو نے صوبوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم صوبوں کو مالی تحفظ دیتی ہے اور اسے کمزور کرنا دراصل پورے ملک، خاص طور پر پنجاب، کو نقصان پہنچائے گا۔ ماضی میں اس ترمیم کو محدود کرنے کی کوششیں ناکام بنائی گئی تھیں، اور اب اٹھائیسویں آئینی ترمیم پر بھی وفاق نے پیپلز پارٹی سے کوئی مشورہ نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر بھی پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے مالی مسائل کی ذمہ داری عوام پر نہیں ڈال سکتی۔ پیپلز پارٹی نے ایف بی آر کی مسلسل ناکامی اور اہداف پورے نہ ہونے پر شدید تشویش ظاہر کی اور اس بات پر زور دیا کہ اس ادارے کی کمزوریوں کا بوجھ صوبوں یا شہروں پر ڈالنا ناانصافی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام، بہتر طرز حکمرانی، موسمیاتی خطرات سے نمٹنے اور صوبوں کو حقوق دینے کے بغیر ملکی ترقی ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں :عادل راجہ کا اعترافی بیان سامنے آگیا،جا نئے کیا کیا اعترافات کئے

متعلقہ خبریں