پاکستانی سائنسدانوں نے پانی کو مائیکرو پلاسٹک سے پاک کرنے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا

کراچی(نیوزڈیسک)پاکستانی محققین کا بڑا کارنامہ، آلودہ پانی کو مائیکرو پلاسٹک سمیت دیگر آلودگیوں سے پاک کرنے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا۔تحقیق کے مطابق پاکستان اور آسٹریلیا کے محققین کی ایک ٹیم نے ایسا پاؤڈر ایجاد کیا ہے جو آلودہ پانی سے مائیکرو پلاسٹک سمیت دیگر آلودگیوں کو انتہائی کم وقت میں جزب کر کے پانی کو صاف کرسکتا ہے۔بظاہر عام پاؤڈر کی طرح دکھنے والا یہ مواد خوردبینی اور فیرو میگنیٹک ’نینوپلارڈ ساختہ ڈھانچے‘ سے بنا ہے۔ انتہائی احتیاط سے ڈیزائن کردہ ذرات نامیاتی فریم ورک (ایم او ایف) کی دو شیٹس سے بنایا گیا ہے۔ ان کے درمیان ایک کاربن انکیپسولیٹڈ آئرن آکسائیڈ نانوپلرز کی صف موجود ہے۔آسٹریلوی محقق ایستھتیاگھی کے مطابق اس وقت آلودہ پانی کو صاف کرنے کے لیے جو طریقہ کار اپنایا جاتا ہے اس میں کئی دن لگتے ہیں جبکہ ہماری سستی اور پائیدار ایجاد سے صرف ایک گھنٹے میں بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہی۔ان کا کہنا ہے یہ ایجاد جدید ترین ٹریٹمنٹ پلانٹس کے مقابلے ہزار گنا چھوٹے مائیکرو پلاسٹک کو بھی شناخت کرسکتی ہے۔اس پاؤڈر کے موجد ڈاکٹر محمد حارث اور محقق ڈاکٹر ناصر محمد کے مطابق نینو پلار ساختہ مواد اس پورے عمل میں کوئی ثانوی آلودگی پیدا نہیں کرتا۔ان کا کہنا ہے کہ جب ایک بار یہ پاؤڈر گندے پانی میں تھوڑی دیر کے لیے گھومتا ہے تو مقناطیس کی طرح مختصر وقت میں ہی مائیکرو پلاسٹک کے ذرات سمیت تمام نینو پلارڈ ساختہ ڈھانچے کو جزب کرلیتا ہے۔