اہم خبریں

دریائے ستلج کے مزید 5 بند ٹوٹ گئے

چشتیاں (اے بی این نیوز) دریائے ستلج میں سیلاب کی تباہ کاریاں شدت اختیار کر گئیں اور مزید پانچ بڑے بند ٹوٹنے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ دولہ عاکوکا، شادم شاہ، کالیے شاہ، میرن بلوچاں اور مہتہ جھیڈوں کے علاقے پانی میں ڈوب گئے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد مشکلات کا شکار ہیں۔ اب تک 14 ہزار 322 افراد نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ 5708 پالتو جانور بھی متاثر ہوئے ہیں۔

سیلاب نے زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ 8558 ایکڑ پر کھڑی کپاس، دھان، کماد اور جوار جیسی تیار فصلیں تباہ ہو گئیں، جس سے کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ تحصیل انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں کے لیے چھ فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں جہاں متاثرین کو ابتدائی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ادھر رحیم یار خان میں بھی سیلابی صورتحال کے باعث تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں۔ ضلع کے 56 سرکاری سکولوں کو بچوں کی حفاظت کے پیش نظر یکم تا پانچ ستمبر بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ بندش خانپور، صادق آباد اور لیاقت پور کی تحصیلوں کے اسکولوں میں ہوگی۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق یہ اقدام طلبہ کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

دوسری جانب بالاکوٹ میں لینڈ سلائیڈنگ نے شاہراہ کاغان کو دوسرے روز بھی مکمل طور پر بند کر رکھا ہے۔ حسہ کے مقام پر بھاری پتھروں کے باعث سڑک کھولنے کا عمل معطل ہے جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی مشینری موقع پر موجود نہ ہونے سے عوام شدید پریشان ہیں۔ متبادل راستہ انتہائی تنگ ہونے کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ہیں اور بڑی گاڑیوں کا داخلہ مکمل طور پر بند ہے۔ نتیجے میں ناران، شوگراں اور وادی کاغان کی طرف جانے والے سیاح پھنس گئے ہیں اور اشیائے خورونوش کی ترسیل بھی متاثر ہو چکی ہے۔

رحیم یار خان میں ایک اور افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ماچکھہ کے علاقے نور شاہ میں دیرینہ دشمنی پر فائرنگ سے تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ جاں بحق افراد کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے شیخ زید ہسپتال منتقل کر دی گئیں۔ ڈی پی او عرفان علی سموں نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کر لیے ہیں جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جلد ہی ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

مزید پڑھیں :

متعلقہ خبریں