اہم خبریں

پاکستان نے ہو لناک سیلابوں سے کچھ نہیں سیکھا، لینڈ مافیا قدرت کے نظام سے کھیل رہے ہیں، امین اسلم

اسلام آباد (اے بی این نیوز) سابق وزیرِ مملکت برائے ماحولیات ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان ایک سنگین ماحولیاتی بحران میں داخل ہو چکا ہے اور فوری طور پر کلائمیٹ ایمرجنسی نافذ کرنا ناگزیر ہے۔

اے بی این کے پروگرام ڈیبیٹ ایٹ 8 میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کوئی اچانک قدرتی آفت نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط حکومتی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت پاکستان کے تین بڑے دریا بیک وقت فلڈ کی لپیٹ میں ہیں، جن کا ریلا پنجاب اور سندھ میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا سکتا ہے۔

ملک امین اسلم نے کہا کہ پاکستان نے 2010، 2014 اور 2022 کے ہولناک سیلابوں سے کچھ نہیں سیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ المیہ یہ ہے کہ ہر بار ڈیزاسٹر کے بعد حکومتیں وقتی طور پر متحرک ہو جاتی ہیں لیکن بعد میں پھر غفلت کی نیند سو جاتی ہیں۔ آج بھی ہم اتنے ہی غیر تیار ہیں جتنے دس سال پہلے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 2022 کے بعد فیڈرل فلڈ پروٹیکشن پلان تیار ہوا، ای سی سی نے 20 ارب روپے کی منظوری دی، لیکن رواں برس اس مد میں صرف 10 کروڑ روپے رکھے گئے۔

سابق وزیر نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران ماحولیات کے بڑے منصوبے شروع کیے گئے، جن میں 10 بلین ٹری سونامی، لیونگ انڈس پروگرام اور ریچارج پاکستان شامل تھے۔ ان اقدامات سے 2014 سے 2022 تک جنگلات کی کٹائی کم ہوئی، جس کی تصدیق عالمی اداروں کے سیٹلائٹ ڈیٹا سے بھی ہوئی۔ تاہم 2022 کے بعد تسلسل ٹوٹ گیا اور 2024 میں جنگلات کی کٹائی دوگنی ہو گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ دریاؤں کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ایک بڑے خطرے میں بدل چکی ہیں۔ پاکستان میں لینڈ اور ٹمبر مافیا قدرت کے نظام کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ طاقتور طبقہ دریا کنارے ریزورٹس اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں بناتا ہے، این او سی بھی مل جاتے ہیں مگر کوئی روکنے والا نہیں ہوتا۔ انہوں نے دریائے راوی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ قدرت نے خود تجاوزات کو بہا کر زمین واپس لے لی اور خبردار کیا کہ اگر مافیاز پر قابو نہ پایا گیا تو قدرت خود راستہ بنائے گی۔

این ڈی ایم اے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ادارے نے اپنے زیادہ تر فنڈز ایونٹ مینجمنٹ پر خرچ کیے، جبکہ مقامی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیاں بنانے پر توجہ نہیں دی گئی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ فنڈز کہاں خرچ ہوئے اور گراؤنڈ پر کیوں استعمال نہ ہو سکے۔

ملک امین اسلم نے زور دیا کہ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ماحولیات کو ہر حکومت کی اولین ترجیح بنایا جائے، بجٹ میں واضح فنڈنگ رکھی جائے، تیار کردہ ماحولیاتی منصوبوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور لینڈ و ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو آنے والے برسوں میں قدرت خود حساب لے گی۔ یہ ڈیزاسٹر رکے گا نہیں بلکہ ہر سال بڑھے گا۔

مزید پڑھیں :یمنی وزیر اعظم اور ان کے وزرا کی شہادت کے بعد ایک اور اہم ترین شخصیت کو شہید کر دیا گیا؟جا نئے کون

متعلقہ خبریں