اہم خبریں

نا قص نتائج کے حامل سکولوں کو نجی شعبہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ،جا نئے نالائق سکولوں کی فہرست بارے

پشاور (اے بی این نیوز)میٹرک کے مایوس کن نتائج: خیبرپختونخوا حکومت نے طلباء کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بڑا فیصلہ کرلیا

اس سال خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں میٹرک کے امتحانات کے نتائج انتہائی مایوس کن رہے ہیں۔ محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 896 سرکاری اسکول ایسے ہیں جہاں 60 فیصد سے زائد طلبہ فیل ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ صوبے کے 8 تعلیمی بورڈز میں کسی سرکاری سکول کے طالب علم نے ٹاپ پوزیشن حاصل نہیں کی۔

میٹرک کے مایوس کن نتائج سامنے آنے کے بعد محکمہ تعلیم نے سرکاری سکولوں کا تفصیلی ڈیٹا مرتب کیا ہے جس کے مطابق ناقص نتائج دینے والے سکولوں میں لڑکوں کے 550 اور لڑکیوں کے 296 سکول شامل ہیں۔قبائلی اضلاع کے اسکول بھی ان اداروں میں شامل ہیں جنہوں نے امتحانات کے دوران خراب نتائج دیے۔

ناقص نتائج دینے والے سکولوں میں نوشہرہ سب سے آگے ہے جہاں 169 سرکاری سکولوں کے صرف 40 فیصد سے بھی کم طلباء پاس ہوئے۔

محکمہ تعلیم کے مطابق مردان کے 142، سوات کے 116، مانسہرہ کے 56، پشاور میں 55، کوہاٹ میں 52، ایبٹ آباد میں 42، کرک کے 37، صوابی میں 25 اور اورکزئی کے 20 سرکاری اسکولوں میں 60 فیصد سے زائد طلبہ فیل ہوئے۔

محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے ناقص نتائج دینے والے سکولوں کے سربراہان کی تفصیلات مرتب کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ناقص کارکردگی پر وضاحت طلب کرنے کے نوٹس جاری کیے جائیں گے۔

اس صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے ناقص نتائج دینے والے سرکاری سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پالیسی کے مطابق ابتدائی طور پر 1500 اسکولوں کو آؤٹ سورس کیا جائے گا۔ ان سکولوں کا نظم و نسق اور تدریسی عمل نجی تعلیمی اداروں کے ہاتھ میں ہو گا تاہم طلباء کو مفت تعلیم کی فراہمی جاری رہے گی۔

محکمہ تعلیم کے حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد معیاری تعلیم کو یقینی بنانا اور سرکاری سکولوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ آؤٹ سورس سکولوں کی کارکردگی کا ہر سال جائزہ لیا جائے گا اور غیر تسلی بخش نتائج دینے والے اداروں سے معاہدے ختم کر دیے جائیں گے۔

خیبرپختونخوا حکومت کے مطابق رواں مالی سال کے دوران دیگر محکموں کے برعکس محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کو سب سے زیادہ 370 ارب روپے سے زائد کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جس میں سے 20 ارب روپے صرف ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں سرکاری سکولوں کی کل تعداد 33,000 کے لگ بھگ ہے جہاں 310,000 سے زائد اساتذہ اور عملہ تعینات ہے۔ ان میں سے ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں کی تعداد 3,600 ہے۔ ان میں سے 896 سرکاری ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں کے میٹرک کے نتائج کے دوران 60 فیصد سے زائد طلباء فیل ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں :یمنی وزیر اعظم اور ان کے وزرا کی شہادت کے بعد ایک اور اہم ترین شخصیت کو شہید کر دیا گیا؟جا نئے کون

متعلقہ خبریں