اسلام آباد (اے بی این نیوز) چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ ملک بھر میں جاری بارشوں کا سلسلہ ستمبر کے پہلے دس دنوں میں آخری مرحلے میں داخل ہوگا۔ خلیج بنگال میں لو پریشر سسٹم بننے کے امکانات ہیں جس کے باعث آئندہ تین سے چار روز میں ایک اور مون سون اسپیل شروع ہوگا۔ اس دوران شمالی اور مشرقی پنجاب، آزاد کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں بارشوں کے زیادہ امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ کشمیر میں بارشوں کا دباؤ پچھلے ہفتے جتنا شدید نہیں ہوگا، تاہم دریائے چناب، راوی اور ستلج پر دباؤ برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ اور جہلم میں پانی کی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔ بڑے ڈیمز اور بیراج جیسے کالا باغ اور چشمہ میں پانی کو مکمل مانیٹرنگ کے ساتھ ریگولیٹ کیا جا رہا ہے۔ گڈو اور سکھر بیراج پر 8 سے 10 لاکھ کیوسک کے ریلے آنے کا خدشہ ہے جبکہ 4 سے 5 ستمبر کے دوران بڑے سیلابی ریلے اکٹھے ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
اب تک چھ لاکھ سے زائد افراد کو متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جہاں انہیں ابتدائی طبی سہولتوں سمیت بنیادی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور مکمل بحالی میں وقت لگے گا۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث 850 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 1150 سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اصل نقصان اور مالی تخمینے کے اعداد و شمار اکتوبر میں مرتب کیے جائیں گے۔
سندھ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور ریلیف ادارے مسلسل مانیٹرنگ کے ذریعے صوبوں کو حقیقی انتباہات فراہم کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نشیبی علاقوں میں پانی کم از کم دو ہفتے تک کھڑا رہنے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ دس دن سیلابی صورتحال کے حوالے سے سب سے زیادہ حساس ثابت ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں :سکولوں کی تعطیلات میں اضافہ