اہم خبریں

حکومت کے انقلابی اقدامات،قومی ڈیجیٹل اتھارٹی کے قیام سمیت اہم اعلانات

اسلام آباد( اے بی این نیوز     ) حکومت نے ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے جامع اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ، قومی ڈیجیٹل اتھارٹی کا قیام، فائبرائزیشن کے اہداف، اور 5G نیلامی کی تیاری شامل ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے دوران آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ فری لانسرز کی برآمدات تقریباً 0.7 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 91 فیصد اضافہ ہے۔

ڈیجیٹل پالیسی کے تحت پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے جو زراعت، صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں کے لیے قومی ڈیجیٹل بلیوپرنٹ تیار کرے گی۔ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام میں اس وقت 3 لاکھ نوجوان تربیت حاصل کر رہے ہیں جبکہ ہدف 10 لاکھ مقرر کیا گیا ہے، جس سے روزگار اور معیشت پر نمایاں اثر متوقع ہے۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ہر شہری کو کم لاگت اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے سب میرین کیبلز کے ذریعے بین الاقوامی گنجائش بڑھانے اور موبائل ٹاورز کی فائبرائزیشن کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ فی الحال صرف 14 فیصد ٹاورز فائبر سے منسلک ہیں لیکن اگلے تین سال میں نمایاں پیش رفت کا ہدف رکھا گیا ہے۔

اسلام آباد میں رائٹ آف وے اصلاحات کے تحت سی ڈی اے نے فیس ختم کر دی ہے جبکہ این ایچ اے اور ریلوے کو بھی اس فیس کو ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جو پہلے 36 روپے فی میٹر سالانہ تھی۔

نوجوانوں کے لیے ٹیک پارکس اور 25 کو ورکنگ سائٹس قائم کی جا رہی ہیں جہاں ابتدائی طور پر 2800 نشستیں دستیاب ہوں گی۔

ٹیلی کام سیکٹر میں اسپیکٹرم روڈمیپ کے تحت 600 میگا ہرٹز پر توجہ دی جا رہی ہے اور 5G کے لیے نیلامی دسمبر 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ اس اقدام سے جی ڈی پی، برآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے لائسنسنگ قوانین کو بھی آسان بنایا گیا ہے تاکہ نئی کمپنیوں کی دلچسپی بڑھائی جا سکے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق اگرچہ سیکٹر میں نمایاں ترقی ہوئی ہے مگر کوالٹی کنجیشن، بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت، بجلی کی کمی، اور ناکافی بیک ہال و سب میرین انفراسٹرکچر ابھی بھی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ فی الوقت صرف چار بین الاقوامی ڈیٹا سینٹرز استعمال میں ہیں۔

5G کی پیش رفت کے حوالے سے بتایا گیا کہ ٹرائل پالیسی اکتوبر 2017 میں شروع ہوئی، 2023 سے نیلامی کا عمل جاری ہے جبکہ اسپیکٹرم کمی اور عدالتی معاملات کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ تاہم فی الحال کوئی اسٹے آرڈر موجود نہیں اور نیلامی کے لیے راستہ صاف ہے۔

ماہرین کے مطابق 5G نیلامی کے بعد نیشنل رومنگ، سم سیکیورٹی، 3G سن سیٹ، Wi-Fi 6E/7 اور انفراسٹرکچر شیئرنگ جیسے ضابطہ جاتی اقدامات پاکستان کے ڈیجیٹل انقلاب کو تیز کریں گے۔

مزید پڑھیں :کرکٹر راشد خان کیلئے خبر غم اور کھلاڑیوں کی ڈھارس

متعلقہ خبریں