اسلام آباد (اے بی این نیوز) لاہور کی اربن ڈویلپمنٹ ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ راوی کنارے ہاؤسنگ سوسائٹیز اور این او سی کے معاملات پر کئی حکومتوں کے ادوار میں بحث رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے دور میں بھی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کو این او سی جاری کیا گیا، جبکہ ماضی میں علیم خان کو یہ اجازت نہیں ملی تھی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور میں بھی یہ مؤقف تھا کہ دریا کے بیڈ میں ہاؤسنگ اسکیمیں نہیں بن سکتیں بلکہ پانی کے ذخائر، جھیلیں اور ٹریٹمنٹ پلانٹس تعمیر ہونا چاہئیں تاکہ صاف پانی دریا میں جا سکے۔ ان کے مطابق لاہور کا سب سے بڑا مسئلہ زیرِ زمین پانی کی تیزی سے کمی اور گندے پانی کا دریائے راوی میں اخراج ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی ذخیرہ کر کے چھوڑنے یا روکنے دونوں صورتوں میں پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے راوی اربن ڈویلپمنٹ جیسے منصوبے وقت کی ضرورت ہیں۔وہ اے بی این نیوز کے پروگرام ڈی بیٹ ایٹ 8 میں گفتگو کررہے تھے انہوں نے کہا کہ
سیاست پر گفتگو کرتے ہوئے عمیر نیازی نے بتایا کہ پی ٹی آئی کمیٹیوں سے استعفیٰ دے چکی ہے کیونکہ ان کمیٹیوں میں پارٹی کو مؤثر طریقے سے کام کرنے کا موقع نہیں دیا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ہیومن رائٹس کمیٹی کے ریکارڈ منگوائے گئے تو رپورٹ کمیٹی کے بجائے براہ راست اسمبلی میں پیش کر دی گئی، جو پارلیمانی روایات کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پارٹی کے اندر کچھ تحفظات موجود ہیں لیکن فیصلے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔ فلڈز اور معاشی بحران جیسے مسائل بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے فیصلے اصولی بنیادوں پر ہوتے ہیں اور یہ تاثر غلط ہے کہ وہ اپنے قریبی لوگوں کو کسی بھی صورت تحفظ دیتے ہیں۔
عمیر نیازی نے کہا کہ زمین ایک محدود وسیلہ ہے اور اسے اندھا دھند کنکریٹ سے بھرنے کے بجائے ورٹیکل ڈویلپمنٹ یعنی بلند عمارتوں کی صورت میں استعمال کیا جانا چاہیے جیسا کہ دنیا بھر میں ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں پارٹی اپنی سیاسی حکمتِ عملی طے کرے گی اور موجودہ صورتحال کے باوجود پی ٹی آئی مشکلات سے نکلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مزید پڑھیں :سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سکولز کی چھٹیوں میں توسیع پر غور