اسلام آباد (اے بی این نیوز ) رہنماپی ٹی آئی شعیب شاہین نے کہا ہے کہ 2 ججز کی غیر موجودگی میں بینچ مکمل دکھا کر فیصلہ سنایا گیا؟خواہشات کی تکمیل کیلئے آئینی اصولوں کو پامال کیا جا رہا ہے۔ فیصلے تبدیل کرنا نظام عدل میں سقم کی بدترین مثال ہے۔
عدلیہ کے فیصلے مفادات کے تحت نہیں، قانون کے تحت ہونے چاہئیں۔ آئینی ترامیم کے بہانے عدلیہ کی خودمختاری پر حملہ کیاگیا۔ جمہوریت کیخلاف فیصلے، آئندہ نسلوں کو اندھیرے میں دھکیل سکتے ہیں۔ طاقت سے نظام چلانے کی سوچ قوم کو غلامی کی طرف دھکیل رہی ہے۔
عوامی مینڈٹ کو زبردستی ہتھیانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ عدالتی بینچ کی تشکیل پر پہلے دن سے تحفظات تھے۔ ملک میں انصاف کا معیار طاقت سے طے نہیں ہونا چاہیے۔ عوام کو شعور دینا ہی اصل مقصد تھا، ورنہ فیصلے طے شدہ تھے۔
جو اصل فیصلے کرتا ہے وہ نظر نہیں آتا، جمہوریت خطرے میں ہے۔ 13رکنی بینچ کے فیصلے کو کیوں کالعدم قرار دیا گیا؟ عوام کو انصاف کی امید عدلیہ سے تھی، مگر فیصلہ متنازع ہو گیا۔ ڈیڑھ سال کے مقدمات کے باوجود عوامی حمایت میں کمی نہیں آئی۔ عدالت کا کام حقائق پر فیصلہ دینا ہے، ووٹنگ نہیں۔
مزید پڑھیں :پاکستان تحریک انصاف مخصوص نشستوں سے محروم ہو گئی،سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا