اہم خبریں

عمران خان اور باجوہ کی کامیابی کی وجہ کابل کو اعتماد میں لینا تھا،فواد چودھری

اسلام آباد ( اے بی این نیوز    )فواد چودھری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے تین ریجن کو صوبہ قرار دینا چاہیے۔ بلوچستان کے لوگوں کو ان حقوق دیے جائیں۔ اگر سسٹم عوام کو ریلیف فراہم نہیں کرے گی تو اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ وہ اے بی این نیوز کے پروگرام بدلو میں گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے سیاسی مشاورت کی ضرورت ہے۔
سیاسی لیڈرشپ کو اعتماد میں لیے بغیر آپریشن کامیاب نہیں ہوسکتا۔ حکومت کو کابل سے تعلقات بحال کرنے ہوں گے۔ کابل سے تعلقات بحال کیے بغیر خیبرپختونخوا میں دہشتگردی پر قابو پانا ممکن نہیں۔ بانی پی ٹی آئی اور باجوہ کی کامیابی کی وجہ کابل کو اعتماد میں لینا تھا۔
سینئرسیاستدان محمدعلی درانی نے کہا کہ دہشتگردی کامقابلہ کرنےکیلئےسائنٹیفک طریقوں کواپناناپڑےگا۔ دہشتگردی کےپیچھےعموماً بیرونی ہاتھ کی مداخلت بھی ہوتی ہے۔
ہم اس وقت بےبسی کی حالت میں ہیں کوئی فارن پالیسی نہیں۔ حکومت کوگورننس کےمسائل ٹھیک کرنےہوں گے۔ آپریشن کےحوالےسےمیرانقطہ نظرمختلف ہے۔ بلوچستان کےبنیادی مسائل کوسمجھنےکی ضرورت ہے۔
پاکستان کوبہترین فارن پالیسی بنانےکی ضرورت ہے۔ حکومت نےوزیرخزانہ کوپیسےمانگنےپرلگایاہواہے۔ دہشتگردی ختم کرنےکیلئےٹیکنالوجی کاکیوں استعمال نہیں کیاجاتا؟ نوازشریف،آصف زرداری اوردیگررہنماؤں کوبلوچستان جاناچاہیے۔
ملک کی خاطرسب کواکٹھاہوناپڑےگا،۔ حکومت نہیں چاہتی پی ٹی آئی کوکوئی راستہ دیاجائے۔ حکومت کوبھی پی ٹی آئی کی مقبولیت کااندازہ ہے۔ حکومت چاہتی ہےاسٹیبلشمنٹ اورپی ٹی آئی کےتعلقات خراب ہوں۔
حکومت آج تک9مئی واقعات میں ملوث ملزموں کومجرم ثابت نہیں کرسکی۔ مولانافضل الرحمان کاموقف ہےموجودہ پی ٹی آئی قیادت کو26ویں ترمیم کابتایاتھا۔ 26ویں آئینی ترمیم کی موجودگی میں جمہوری نظام آگےنہیں بڑھ سکتا۔
پی ٹی آئی نےاگر26ویں ترمیم کوسپورٹ کرناہےتوحکومت میں شامل ہوجائے۔ 26ویں آئینی ترمیم کےتحت عدلیہ انتظامیہ کےماتحت آگئی۔

مزید پڑھیں :2کروڑ صارفین کو بجلی کی پیداواری قیمت کا 70 فیصد ڈسکاؤنٹ

متعلقہ خبریں