لاہور(نیوزڈیسک) طالبہ ریپ اور گزشتہ رز پنجاب پولیس کے طلبا ء پر تشدد کیخلاف آج پھر پنجاب اسمبلی کے سامنے طلباء کے مظاہرے شروع، پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی،
تمام تعلیمی اداروں کے طلباء کا احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ، یہ سلسلہ اب ایسے نہیں رکے گا طلباء کی دھمکی،پنجاب پولیس نے گزشتہ روز 15-16 سال کے بچوں پر جس طرح سے تشدد کیا پنجاب پولیس نے ثابت کیا کہ وہ غنڈے ہیں ان کو تربیت کی ضرورت ہے، طالبات نے پنجاب پولیس کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا.
تفصیلات کے مطابق لاہور کالج کی طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کیخلاف پنجاب کے مختلف حصوں میں طلباءکے مظاہرے پھوٹ پڑے ،پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقے پنجاب کے طلباء نے نجی کالج کی طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے شروع ہوگئے.
اوکاڑہ میں اسی کالج کے طلباء جی ٹی روڈ پر آگئے جب کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی طلباء پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج کر رہے ہیں اور انصاف اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ طلباء میں غم و غصہ پھیل گیا، جنہوں نے نعرے لگائے اور سڑکیں بلاک کرنے کی کوشش کی۔
طلباء تنظیموں نے بھی انصاف کے لیے اپنی کالیں تیز کر دیں جب کہ بدامنی پر قابو پانے کیلئے پنجاب کالج کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی، جبکہ پولیس کا جی ٹی روڈ پر بھی گشت شروع ہوگیا، طلبا نے گرفتار افراد کی رہائی اور ملزمان کے احتساب کا مطالبہ کردیا۔
احتجاج تعلیمی اداروں میں تحفظ اور انصاف کے بارے میں جاری خدشات کو اجاگر کرتے ہیں، طلباء تشدد کے مرتکب افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
پیپلز پارٹی رہنما کے گھر کے باہر کریکر دھماکہ ،نثار کھوڑو بال بال بچ گئے ، تحقیقات شروع














