اسلام آباد ( اے بی این نیوز ) پی ٹی آئی کے راہنما رؤف حسن نے کہا ہے کہ مولاناکےساتھ آئینی ترامیم کےحوالےسےبات چل رہی ہے۔ آئینی ترامیم کےمعاملہ میں مولانااچھاکرداراداکررہےہیں۔
مولانا نےآئینی مسودےکےحوالےسےہمیں بریفنگ دی۔مولانافضل الرحمان کاآئینی ترامیم کےحوالےسےمثبت رول ہے۔ حکومت ہمارےلوگوں کوقائل کرنےمیں ناکام رہی۔ 63اےپاس ہونےکےباوجود بھی حکومت ناکام ہوگی۔ وہ اے بی این نیوز کے پروگرام سوال سے آگے میں گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ
حکومت مخالفین کیخلاف بدترین فسطائیت کررہی ہے۔ واضح کرتاہوں کہ آئینی عدالت نہیں چلےگی۔ مولانافضل الرحمان کااپناآئینی مسودہ ہے۔ محسن نقوی کی کسی بات کاجواب نہیں دیناچاہتا۔
وفاق میں خیبرپختونخوا ہاؤس پرحملہ کیاگیاکوئی پوچھنےوالانہیں۔
خیبرپختونخواہاؤس پرحملہ وفاق کاوفاق پرحملہ ہے۔ علی امین گنڈاپورکےحوالےسےپارٹی ورکرزکوکوئی شکوہ نہیں۔ علی امین نےاسمبلی فلورپر2باراپناموقف پیش کیا۔ محسن نقوی کہتےتھے کہ ڈی چوک نہیں آنے دیں گے۔
مشکلات کےباوجودڈی چوک اورمینارپاکستان پربھی پہنچے۔ حکومت کی طرف سےنفرتوں میں اضافہ کیاجارہاہے۔ فاصلےختم کرنےکیلئےحکومت کواقدامات کرنےہوں گے۔ 13،14اور15اکتوبرکواحتجاج کرنےجارہےہیں۔
نفرتوں کی دیواریں گرنےاورگرانےکی ضرورت ہے۔ فسطائیت کوختم کرنےکیلئےحکومت کواقدامات کرنےہوں گے۔ حکومت کاکام ہےمعاملات کواچھی طریقےسےبڑھنےدے۔
بانی پی ٹی آئی کہتےہیں ہمارامینڈیٹ واپس کیاجائے۔ پاکستان کےحالات جلدٹھیک ہوں گے ملک آگےبڑھےگا۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ آئینی ترامیم کیلئے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں۔ مشاورت کےبعدآئینی ترامیم کوپاس کرالیں گے۔ وزیرقانون نےاجلاس میں ترامیم کےحوالےسےتفصیلی گفتگوکی۔
مولانا فضل الرحمان کا مسودہ تیار ہے اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ تمام سٹیک ہولڈرزسےبات چل رہی ہے۔ کابینہ اجلاس میں آنے سے پہلے مسودے کو کیسے پبلک کیا جائے۔ بارکونسلزکوبھی مسودہ شیئرکیاگیاانکی طرف سےتجاویزآنی ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن کومسودہ شیئرکیاان کی بھی تجاویزلیں گے۔ آئینی ترامیم ایس سی اواجلاس سےپہلےیابعدمیں بھی ہوسکتی ہے۔ کوئی قباحت نہیں آئینی تر امیم پروقت بھی لگ سکتاہے۔
مولاناہمارےساتھ آن بورڈہیں چاہتے ہیں وہ آئینی ترامیم میں شامل ہوں۔ بلاول بھٹوکابھی قانونی بیک گراؤنڈ ہے اپنی رائے دےرہےتھے۔
فیصل چودھری نے کہا کہ حکومت کنفیوژن کاشکارہےلوگوں کواحتجاج کاحق نہیں دیاجارہا۔ احتجاج کرنا ہرشہری کا بنیادی حق ہے۔ حکومت قانون کوتبدیل کرناچاہتی ہے۔
ہمارااپنے ایم این ایزکےساتھ رابطہ نہیں ہوپارہا۔ فلورکراسنگ کےعلاوہ حکومت آئینی تر امیم پاس نہیں کراسکتی۔ فسطائیت کرکےحکومت آئینی ترامیم کرناچاہتی ہے۔ بلاول بھٹوکی تقریرسننےکےبعدمیری بیرون ملک تعلیم پراعتماداٹھ گیا۔
سپریم کورٹ اپنےطریقے کارکےمطابق کام کرتی ہے۔ جوڈیشری پرپابندیاں نہیں لگائی جاسکتیں ہرجج آزادہے۔ انتظارحسین پنجوتھہ کل سےغائب ہیں کچھ پتہ نہیں چل رہا،۔
ملک میں جبری گمشدگیاں ہورہی ہیں کسی کوفکرنہیں۔
مزید پڑھیں :پی ٹی آئی نے ایک بار پھر احتجاج کا فیصلہ کر لیا،شیڈول جاری















